مفتی صاحب ! اگر کسی نے قرض معاف کرنے کی نیت کر لی تو دوبارہ قرض کا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟
اگر کوئی شخص صرف دل میں یہ ارادہ کرے کہ وہ اپنے مقروض کا قرض معاف کر دے گا ، لیکن زبان سے اس کا اظہار نہ کرے اور نہ ہی مقروض کو اس کی اطلاع دے تو محض دل کا ارادہ قرض معاف ہونے کے لیے کافی نہیں، لہٰذا قرض بدستور باقی رہے گا اور قرض خواہ اپنے مقروض سے رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔
*الموسوعة الفقهية الكويتية:(139/5،ط:دارالسلاس)* وركنه عند الحنفية هو الصيغة فقط، أما المتعاقدان والمحل فهي أطراف العقد وليست ركنا، لما سبق. *الهندية:(383/4،ط: دارالفكر)* هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا وهبة الدين من غير من عليه الدين جائزة إذا أمره بقبضه استحسانا، كذا في التتارخانية.