السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ جاؤ اپنے لیے ڈھونڈ لو کوئی، جہاں تمہیں سکون ملے،کیا یہ الفاظ کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟اور کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟
طلاق کے کنائی الفاظ میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ "جاؤ اپنے لیے ڈھونڈلو کوئی جہاں تمہیں سکون ملے" ، لیکن اس وقت اس کی نیت طلاق دینے کی نہ تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی، اگر طلاق کی نیت سے یہ الفاظ استعمال کیے گئے تھے یا مذاکرہ طلاق کے دوران کہے تھے تو اس سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ اگر وہ دونوں اپنی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو دورانِ عدت یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں، نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں اور ایسی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ دو طلاق کا اختیار ہوگا۔
*المبسوط: (6/ 143،ط:دار المعرفة )* قال): ولو قال لامرأته: اذهبي فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا فهو طلاق، وإن نوى ثلاثا فثلاث، وإن نوى واحدة فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء؛ لأن كلامه محتمل فلا يتعين معنى الطلاق فيه إلا بالنية، وهو محتمل للطلاق؛ لأنه ألزمها الذهاب من بيته، روي عن محمد - رحمه الله تعالى - أنه لو قال لها: افلحي أو استفلحي ينوي به الطلاق فهو بمنزلة قوله: اذهبي؛ لأن العرب تقول: أفلح بخير أي اذهب بخير، وكذلك لو قال: استفلحي؛ لأن معناه اطلبي فحلا فكان هذا، وقوله تزوجي سواء. *الدر المختار:(214/1،ط: دارالكتب العلمية)* (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) - الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. *الهندية:(572/1،ط:دارالفکر)* إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.