اگر جسم کے کسی حصے سے خون نکل آئے تو کن صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کن صورتوں میں وضو برقرار رہتا ہے؟ اس بارے میں شریعت کی رہنمائی کیا ہے؟
واضح رہے کہ اگر جسم سے خون نکل کر کسی ایسے حصے کی طرف بہہ جائے جس کا وضو یا غسل میں دھونا ضروری ہے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر جسم سے خون نکل کر بہے نہ ، یا بہے، لیکن ایسے حصے کی طرف کہ جس کا وضو یا غسل میں دھونا ضروری نہیں ہے، جیسے آنکھ سے خون نکل کر آنکھ ہی میں رہے ، باہر نہ نکلے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
*الهندية:(10/1،ط:دارالفكر)* ومنها) ما يخرج من غير السبيلين ويسيل إلى ما يظهر من الدم والقيح والصديد والماء لعلة وحد السيلان أن يعلو فينحدر عن رأس الجرح... إذا كان في عينه قرحة ووصل الدم منها إلى جانب آخر من عينه لا ينقض الوضوء؛ لأنه لم يصل إلى موضع يجب غسله. كذا في الكفاية.. *الدرالمختار:(134/1،ط:دارالفکر)* (وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتادا أو لا، من السبيلين أو لا (إلى ما يطهر)....ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة..