مفتی صاحب ! قے آنے سے وضو ٹوٹنے کا کیا حکم ہے؟ کیا ہر قسم کی قے وضو کو توڑ دیتی ہے یا اس میں بھی کچھ تفصیلات اور شرائط ہیں؟
واضح رہے کہ اگر قے منہ بھر کر ہو اور اس میں کھانا، پانی یا صفرا (پت) ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ اگر قے منہ بھر کر نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا، نیز اگر قے بلغم کی ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ منہ بھر کر ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر قے میں خون ہو اور وہ پتلا اور بہنے والا ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا، خواہ خون کم ہو یا زیادہ، البتہ اگر خون گاڑھا ہو اور لوتھڑوں یا ٹکڑوں کی صورت میں ہو تو منہ بھر کر ہونے کی صورت میں وضو ٹوٹے گا، ورنہ نہیں۔ مزید یہ کہ اگر تھوڑی تھوڑی مقدار میں کئی مرتبہ قے ہو اور ان سب کو جمع کرنے سے مقدار منہ بھر کے برابر ہو جائے، جبکہ متلی ایک ہی مسلسل ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر متلی ایک نہ ہو، بلکہ قے کے بعد طبیعت سنبھل جائے اور پھر کچھ وقت بعد دوبارہ نئی متلی آ کر قے ہو تو ایسی صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
*الشامية:(139/1،ط:دارالفكر)* "ينقض الوضوء قىء ملأفاه بأن يضبط بتكلف من مرة اي صفراء او علق أي سوداء؛وأما العلق النازل من الرأس فغير ناقض او طعام أو ماء اذا اوصل الي معدته وان لم يستقر، وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه هو الصحيح لمخالطة النجاسة، ذكره الحلبي. ولو هو في المرىء فلا نقض اتفاقا كقىء حية أو دود كثير لطهارته في نفسه،كماء فم النائم فانه طاهر مطلقا به يفتی، بخلاف ماء فم الميت فانه نجس كقيء عين خمر أو بول وان لم ينقض لقلته لنجاسته بالاصالة لا بالمجاورة لا ينقضه قيء من بلغم علي المعتمد(أصلا) الا المخلوط بطعام فيعتبر الغالب،ولو استويا فكل على حدة.وينقضه دم مائع من جوف أو فم (غلب على بزاق) حكما للغالب( أو ساواه) احتياطا.لا ينقضه المغلوب بالبزاق والقيح كالدم والاختلاط بالمخاط كالبزاق. ويجمع متفرق القىء و يجعل كقيء واحد لاتحاد السبب وهو الغيثان عند محمد رحمه الله وهو الاصح، لان الاصل اضافة الاحكام الي اسبابها الا لمانع، كما بسط في الكافي" *الهندية:(11/1،ط:دارالفكر)* (ومنها القيء) لو قلس ملء فيه مرة أو طعاما أو ماء نقض. كذا في المحيط والحد الصحيح في ملء الفم أن لا يمكنه إمساكه إلا بكلفة ومشقة. كذا في محيط السرخسي.