مفتی صاحب! اونگھ، غفلت یا نیند کی مختلف حالتوں میں وضو کا کیا حکم ہے؟ کون سی نیند وضو کو توڑ دیتی ہے اور کون سی نہیں؟
واضح رہے کہ ہر وہ گہری نیند جس میں اعضاء اور جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں، وضو کو توڑ دیتی ہے۔ چنانچہ لیٹ کر، کروٹ کے بل، یا کسی ایسی چیز کا سہارا لے کر سونا کہ اگر وہ سہارا ہٹا دیا جائے تو آدمی گر پڑے، وضو کے ٹوٹنے کا سبب ہے۔ البتہ محض اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسی حالت میں سو جائے جس میں جسم کے اعضاء ڈھیلے نہ پڑتے ہوں، مثلاً نماز میں قیام، رکوع، سجدہ یا قعدہ کی ایسی ہیئت میں ہو کہ سرین اپنی جگہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہو تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا۔ تاہم آج کل لوگوں میں کھانے پینے کی کثرت اور غفلت کی وجہ سے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی صورتوں میں وضو تازہ کر لیا جائے۔
*الدرالمختار:(136/1،ط:دارالفكر)* (و) ينقضه حكما (نوم يزيل مسكته) أي قوته الماسكة بحيث تزول مقعدته من الأرض، وهو النوم على أحد جنبيه أو وركيه أو قفاه أو وجهه (وإلا) يزل مسكته (لا) يزل مسكته (لا) ينقض وإن تعمده في الصلاة أو غيرها على المختار كالنوم قاعدا ولو مستندا إلى ما لو أزيل لسقط على المذهب، وساجدا على الهيئة المسنونة ولو في غير الصلاةعلى المعتمد ذكره الحلبي، أو متوركا أو محتبيا، ورأسه على ركبتيه أو شبه المنكب أو في محمل أو سرج أو إكاف ولو الدابة عريانا، فإن حال الهبوط نقض وإلا لا. *الهندية:(12/1،ط:دارالفكر)* (ومنها النوم) ينقضه النوم مضطجعا في الصلاة وفي غيرها بلا خلاف بين الفقهاء وكذا النوم متوركا بأن نام على أحد وركيه. هكذا في البدائع وكذا النوم مستلقيا على قفاه....ولو نام مستندا إلى ما لو أزيل عنه لسقط إن كانت مقعدته زائلة عن الأرض نقض بالإجماع وإن كانت غير زائلة فالصحيح أن لا ينقض. هكذا في التبيين....ولا ينقض نوم القائم والقاعد ولو في السرج أو المحمل ولا الراكع ولا الساجد مطلقا إن كان في الصلاة وإن كان خارجها فكذلك إلا في السجود فإنه يشترط أن يكون على الهيئة المسنونة له بأن يكون رافعا بطنه عن فخذيه مجافيا عضديه عن جنبيه وإن سجد على غير هذه الهيئة انتقض وضوءه.