مفتی صاحب ! کیا ڈاکو کو پکڑنے کے بعد اسے از خود قتل کیا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ ڈکیتی جس میں لوگوں کے جان و مال کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے، اس کی سزا جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اگر ڈاکو صرف مال لوٹ کر فرار ہوجائے تو اس کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جاتا ہے، اگر وہ دورانِ ڈکیتی کسی شخص کو قتل کردے تو اس کی سزا قتل ہے۔ اور اگر مال بھی لوٹے اور قتل بھی کرے تو اس کی سزا سولی پر لٹکا کر نیزوں کے ذریعے مارکر قتل کر دینا ہے، یاد رہے کہ حدود و تعزیرات نافذ کرنا عام افراد کا کام نہیں، بلکہ یہ اختیار صرف حکومت وقت اور مجاز عدالتوں کو حاصل ہے، کسی فرد یا گروہ کو خود سے ایسی سزائیں نافذ کرنے کی اجازت نہیں۔
*الشامية:(117/4،ط: دارالفكر)* (قوله ويجوز أن يقاتل دون ماله) أي تحت ماله أو فوقه أو قدامه أو وراءه، فإن لفظ دون يأتي لمعان المناسب منها ما ذكرنا وقال بعضهم على ماله (قوله وإن لم يبلغ نصابا) أي نصاب السرقة وهو عشرة دراهم كما في منية المفتي. وفي التجنيس: دخل اللص دارا وأخرج المتاع فله أن يقاتله ما دام المتاع معه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «قاتل دون مالك» فإن رمى به ليس له أن يقتله؛ لأنه لا يتناوله الحديث. وفي البزازية وغيرها: رجل قتله رب الدار، فإن برهن أنه كابره فدمه هدر، وإلا فإن لم يكن المقتول معروفا بالسرقة والشر قتل به قصاصا، وإن كان منهما تجب الدية في ماله استحسانا؛ لأن دلالة الحال أورثت شبهة في القصاص لا في المال. *بدائع الصنائع:(57/1،ط:دار الكتب العلمية)* وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا.