میرا نام شیراز خان ہے اور میں ایک گرافک ڈیزائنر ہوں۔ میں برطانیہ (UK) کی مارکیٹ میں ای بُک ڈیزائننگ کا کام کرتا ہوں۔ اس کام کے دوران مختلف نوعیت کی کتابیں ڈیزائن کرنے کے لیے آتی ہیں، مثلاً بچوں کی تصویری (Child Illustration) کتابیں، کہانیاں، کارپوریٹ کتابیں اور دیگر تعلیمی و معلوماتی مواد۔ البتہ کبھی کبھار موسیقی (Music) سے متعلق کتابیں یا ایسی کتابیں بھی آ جاتی ہیں جن میں عیسائیت (Christianity) کی تبلیغ و تعلیم کا مواد ہوتا ہے۔ تاہم اس قسم کی کتابوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، مثلاً سو (100) کتابوں میں سے صرف دو یا تین کتابیں ایسی ہوتی ہیں، جبکہ باقی زیادہ تر بچوں کی کتابیں، کہانیاں اور عام نوعیت کے موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے اس نوعیت کا گرافک ڈیزائننگ کا کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ خصوصاً جب کام کے دوران کبھی کبھار موسیقی یا غیر اسلامی مذاہب کی تبلیغ سے متعلق کتابوں کی ڈیزائننگ بھی شامل ہو جاتی ہو۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ گرافک ڈیزائننگ ایک وسیع میدان ہے، لہٰذا اس کا حکم بھی اس کے مواد اور استعمال کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔ اگر ڈیزائننگ کا کام کسی ایسے مواد پر مشتمل ہو جو شرعاً ناجائز ہے، مثلاً جانداروں کی تصاویر، فحش و غیر اخلاقی مضامین، یا کسی باطل مذہب کی تبلیغ و ترویج کا ذریعہ بننے والا مواد، ایسے کام کی ڈیزائننگ کرنا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ گناہ اور ناجائز امور میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ اگر ڈیزائننگ کا کام جائز اور مباح مواد پر مشتمل ہو اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہ پائی جاتی ہو تو ایسا کام کرنا جائز ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بچوں کی تصویری کتابوں، موسیقی سے متعلق کتابوں، فحش یا غیر اخلاقی مواد پر مشتمل کتابوں، نیز عیسائیت یا دیگر باطل مذاہب کی تبلیغ و اشاعت کے لیے تیار کی جانے والی کتابوں کی ڈیزائننگ کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں ناجائز امور کے فروغ اور ان پر تعاون پایا جاتا ہے۔ البتہ عام تعلیمی، معلوماتی، کاروباری اور دیگر جائز موضوعات پر مشتمل کتابوں کی ڈیزائننگ کرنا شرعاً جائز ہے۔
*القرآن الکریم: (المائدة5: 2)* وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ *الهندية: (4/ 449،ط:دارالفكر)* ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو وعلى هذا الحداء وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى. كذا في غاية البيان. *المحيط البرهاني: (7/ 481،ط: دارالکتب العلمية)* وفي «العيون» : لو استأجر رجلا ينحت له أصناما أو يزخرف له بيتا بتماثيل والأصباغ من رب البيت فلا أجر؛ لأن فعله معصية، وكذلك لو استأجر نائحة أو مغنية فلا أجر لها؛ لأن فعلها معصية. وفي «فتاوى أهل سمرقند» : إذا استأجر رجلا ينحت له طنبورا أو بربطا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية، وإنما وجب الأجر في هذه المسألة ولم يجب في نحت الصنم؛ لأن جهة المعصية ثمة مستغنية؛ لأن الصنم لا ينحت إلا للمعصية.. *الأصل لمحمد بن الحسن: (284،ط:دار ابن حزم)* أن الأصل في الأشياء الإباحة(4).