سوال؟ابوبکر کے بچے درج ذیل ہیں 1۔ سب سے بڑا بچہ ۔۔۔۔۔۔سالم 2۔اس سے چھوٹا بچہ۔۔۔۔۔عالم 3۔سب سے چھوٹی بچی۔۔۔۔۔۔۔بلقیس4 ۔آخری بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گل خان عثمان کے بچے درج ذیل ہیں 1۔سب سے بڑا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلم 2۔دوسرا نمبر بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر 3۔تیسرا نمبر بچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمنہ 4۔سب سے چھوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلال اب سوال یہ ہے کہ عثمان کی بیٹی آمنہ نے ابوبکر کے بیٹے عالم کے ساتھ اس کی والدہ کا دودھ نوش کیا یہ دونوں تو رضاعی بہن بھائی ہوئے، اب ابوبکر اور عثمان کے دیگر بچوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ سب آپس میں رضاعی بہن بھائی ہوئے یا ان میں سے کوئی ہیں اور کوئ نہیں۔ اگر سب کے سب آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں تو جواب آسان ہوا، اگر ان میں سے کچھ ہیں اور کچھ نہیں تو براہ کرم ابوبکر اور عثمان کے ان بچوں کی نشاندہی فرمائیں۔
پوچھی گئی صورت میں عثمان کی بیٹی آمنہ نے ابوبکر کے بیٹے عالم کے ساتھ ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے، اس لیے آمنہ کے لیے ابوبکر کے تمام بچے رضاعی بھائی بہن شمار ہوں گے، البتہ ابوبکر کے بچوں میں سے صرف عالم کا آمنہ کے ساتھ رضاعت کا رشتہ ہے، جبکہ عثمان کے دیگر بچوں کے ساتھ ابوبکر کے بچوں کا کوئی رضاعی رشتہ ثابت نہیں ہوتا، لہذا باقی بچے آپس میں رضاعی بہن بھائی نہیں ہوں گے ۔
*الهندية: (1/ 343،ط:دارالفكر)* والمسألة الثانية لا يجوز لرجل أن يتزوج أم أخته من النسب ويجوز في الرضاع لأن في النسب إن كانا أخوين لأم فأم الأخ أمه وإن كانا أخوين لأب فأم الأخ امرأة أبيه وهذا المعنى معدوم في الرضاع كذا في المحيط وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي وتحل أم أخيه وأم عمه وعمته وأم خاله وخالته من الرضاع هكذا في شرح الوقاية. *الشامية: (3/ 217،ط:دارالفكر)* (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى.