السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلئے کے بارے میں میرا ایک دوست ہے وہ گاؤں میں رہتا ہے مسجد کے قریب اور مسجد کے جو امام اور متولی حضرات ہیں ، وہ آپس میں ناراض ہیں تو وہ اپنی جماعت گھر میں کر لیتے ہیں ، لیکن مسجد نہیں جاتے تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ عشاء کی اذان مسجد والے دے دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت ٹائم داخل نہیں ہوا ہوتا ٹائم داخل ہونے سے تقریبا 10 یا 15 منٹ پہلے اذان دے دیتے ہیں یا تو وقت کا علم نہیں ہوتا یا ان کو یہ معلومات نہیں اس وجہ سے کیا ترتیب ہے واللہ اعلم تو ہم اکثر اس کی اذان پہ جماعت کر لیتے ہیں تو ابھی اس صورت میں ہم کیا کریں ؟ وقت داخل ہونے کے بعد اپنی دوسری اذان دے دیں یا نہ دیں مصلحت کے تحت، تاکہ ناراضگی زیادہ نہ بڑھے ایک دوسرے کے اوپر طعن و تشنیع نہ ہو تو اب اس میں رہنمائی لینی ہے کہ ہم اسی کی اذان کے اوپر نماز پڑھیں عشاء کی یا اپنی دوسری اذان دے دے پھر نماز پڑھیں؟
اذان تمام فرض نمازوں کے لیے ان کے اوقات میں دینا سنت مؤکدہ ہے، وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا جائز نہیں، لہذا اگر کسی نے وقت سے پہلے اذان دی تو وقت داخل ہونے کے بعد اذان کا اعادہ لازم ہے، اسی طرح وقت سے پہلے نماز پڑھنا بھی جائز نہیں، لہذا اگر وقت سے پہلے کسی نے نماز پڑھی تو وہ نماز نہیں ہوئی، بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی عشاء کی اذان وقتِ مقررہ سے پہلے دی جاتی ہے تو اس اذان پر نماز ادا کرنا درست نہیں، بلکہ وقت داخل ہونے کا یقین ہونے کے بعد نماز ادا کی جائے۔ نیز چونکہ وقت سے پہلے دی گئی اذان شرعاً معتبر نہیں ہوتی، اس لیے وقت داخل ہونے کے بعد اذان کا اعادہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس معاملے میں حکمت، نرمی اور حسنِ اخلاق کو ملحوظ رکھا جائے اور باہمی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے مناسب انداز میں متعلقہ ذمہ داران کو مسئلے سے آگاہ کیا جائے، تاکہ اذان اور نماز شرعی وقت کے مطابق ادا ہوں۔
*الدرالمختار:(1/ 384، ط:دارالفكر)* (وهو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس. *بدائع الصنائع:(154/1،ط:دار الكتب العلمية)* وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد.وقد قال أبو يوسف: أخيرا لا بأس بأن يؤذن للفجر في النصف الأخير من الليل، وهو قول الشافعي.