مفتی صاحب! کون سے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے اور اس کے لیے کیا شرائط ہیں ؟
واضح رہے کہ ان موزوں پر مسح کرنا جائز ہے جو پورے چمڑے کے ہوں جس کو "خفین" کہتے ہیں یا ایسے موزے ہوں جن کے اوپر اور نچلے حصے میں چمڑا ہو جس کو "مجلد" کہتے ہیں یا ایسے موزے ہوں جن کے صرف نچلے حصے میں چمڑا ہو جن کو "منعل" کہتے ہیں ان تینوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ اسی طرح ایسے موٹے اور مضبوط جرابوں پر بھی مسح جائز ہے جو اس قدر گاڑھے ہوں کہ ان میں پانی سرایت نہ کرے، یعنی اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو پانی پاؤں تک نہ پہنچے۔ اسی طرح ایسی مضبوط جرابیں جن میں بغیر جوتوں کے تقریباً تین میل پیدل چلنا ممکن ہو، یا اتنی مضبوط اور سخت جرابیں ہوں کہ کسی چیز سے باندھے بغیر اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے پنڈلی پر خود قائم رہ سکیں اور ان کا قائم رہنا کپڑے کی تنگی یا چستی کی وجہ سے نہ ہو۔ لہٰذا مذکورہ شرائط پائی جائیں تو ایسی جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے اور اگر یہ شرائط موجود نہ ہوں تو ان جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
*مصنف ابن أبي شيبة: (1/ 171،ط:دارالتاج)* 1976 - حدثنا هشيم، قال: أخبرنا يونس، عن الحسن، وشعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، والحسن أنهما قالا: «يمسح على الجوربين إذا كانا صفيقين.. *الدر المختار: (40،ط:دارالفکر)* (شرط مسحه) ثلاثة أمور: الاول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب) أو يكون نقصانه أقل من الخرق المانع، فيجوز على الزربول لو مشدودا إلا أن يظهر قدر ثلاثة أصابع، وجوز مشايخ سمرقند ستر الكعبين باللفافة. (و) الثاني (كونه مشغولا بالرجل) ليمنع سراية الحدث، فلو واسعا فمسح على الزائد ولم يقدم قدمه إليه لم يجز، ولا يضر رؤية رجله من أعلاه. (و) الثالث (كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد (فيه) فرسخا فأكثر، فلم يجز على متخذ من زجاج وخشب أو حديد..