کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اگر کوئی شخص وضو کرے وضو کے بعد وضو میں شک ہو جائے کہ وضو ٹوٹ گیا یا برقرار ہے تو کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا یا نہیں ؟
واضح رہے کہ وضو کرنے کے بعد اگر صرف وضو ٹوٹنے کا شک پیدا ہو جائے، مثلاً ہوا خارج ہونے کی نہ آواز سنائی دے اور نہ ہی بو محسوس ہو تو محض شک کی بنا پر وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ وضو برقرار رہتا ہے اور نماز بھی درست ہوتی ہے،کیونکہ شرعی اصول ہے کہ: "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"، لہٰذا جب وضو کا ہونا یقینی ہو اور اس کے ٹوٹنے میں صرف شک ہو تو وضو کو برقرار ہی سمجھا جائے گا۔
*الأشباه والنظائر: (47،ط:دارالکتب العلمية)* القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى«يسمع صوتا، أو يجد ريحا} *بدائع الصنائع: (3/ 184،ط:دارالکتب العلمية)* والثابت بيقين لا يزول بالشك كمن استيقن بالحدث، وشك في الطهارة بخلاف ما إذا كانت أيامها عشرا؛ لأنه هناك لا يحتمل عود دم الحيض بعد العشرة إذ العشرة أكثر الحيض فتيقنا بانقطاع دم الحيض فيزول الحيض ضرورة، ويثبت الطهر.