مفتی صاحب ! داڑھی کی شرعی حدود کیا ہیں اور داڑھی کا خط بنانا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا شرعا واجب ہے، اس سے اضافی بالوں کو سیٹ کروانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اور داڑھی کی حدود کانوں کے پاس جبڑوں کی ہڈی سے شروع ہوتی ہیں اور پورا جبڑا اس میں شامل ہے ، لہذا جبڑے اور ٹھوڑی کے علاوہ رخسار اور گردن کے بالوں کو صاف کرنا اور خط بنانا جائز ہے ۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5553،ط:دار ابن کثیر)* عن ابن عمر،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب). وكان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه. *الدر المختار:(2/ 418،ط:دارالفکر)* وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح.