مفتی صاحب ! میرے ایک دوست کی دوکان ہے، جس سے لوگ نقد اور ادھار پر سودا لیتے ہیں، اس دوکاندار دوست سے دو بندے ادھار پر سودا خریدتے ہیں اور ہر ماہ مثلاً بیس تاریخ کو ادائیگی کرتے ہیں، میرا دوکان دار دوست مجھے کہتا ہے کہ آپ ان دونوں بندوں سے میرے پیسے ماہانہ وصول کرتے رہیں اور دس تاریخ کو مجھے جمع کروائیں، چاہے آپ ان سے لے لیں یا ان کی طرف سے آپ ادا کریں بعد میں ان دونوں سے لے لیں، میں اس وصولی کے عوض آپ کو ماہانہ پانچ ہزار روپے ادا کروں گا ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیے اس طرح اس دوست سے پانچ ہزار روپے بطور عوض لینا کیسا ہے؟ خصوصاً جب میں ان دونوں مقروض بندوں کی طرف سے ادائیگی کرکے بعد میں ان سے وصول کر لوں ۔
پوچھی گئی صورت میں یہ معاملہ قرض کا ہے، یعنی دکاندار اپنے گاہکوں سے مقررہ تاریخ پر رقم وصول کرنے کا حق رکھتا ہے، جبکہ آپ اسے اپنی جیب سے مقررہ تاریخ سے پہلے اس کی مطلوبہ رقم ادا کر دیتے ہیں، اس کے بعد آپ دکاندار کے وکیل بن کر مقررہ تاریخ پر ان گاہکوں سے وہ رقم وصول کرتے ہیں، چونکہ آپ نے دکاندار کو پیشگی رقم دی، اس لیے شرعاً یہ قرض شمار ہوگا۔ قرض کے لیے ضروری ہے کہ جو چیز قرض دی جاتی ہے، واپسی کے وقت اسی کے مثل لوٹائی جائے، اگر معاہدے کے تحت اس میں کمی یا زیادتی کی شرط رکھی جائے تو یہ سود (ربا) کے حکم میں آتا ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا دکاندار سے پانچ ہزار روپے منافع لینا جائز نہیں۔
*سنن ابي داوود:(222/5،رقم الحديث 3333،ط:دار الرسالة العالمية)* حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعودعن أبيه، قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه. *العناية شرح الهداية:(233/12،ط:دار الكتب العلمية)* وأخرج البيهقي أيضا من حديث إدريس بن يحيى عن عبد الله بن عياش حدثنا يزيد بن حبيب، عن أبي مرزوق النخعي عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا. *المحيط البرهاني:(126/7،ط:دار الكتب العلمية)* قال محمد ﵀ في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحًا أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به. *الشامية:(166/5،ط:دارالفكر)* وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن. *العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (279/1،ط:دار المعرفة)* (سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب): نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."