ہمارے ایک رشتہ دار نے شادی کی، شادی کے کچھ دنوں کے بعد کہنے لگے کہ مجھے بیوی پسند نہیں تو کیا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتے ہیں ؟ اس میں کوئی گناہ تو نہیں؟
اسلام نے نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے درمیان مناسب ہم آہنگی اور پسندیدگی کا خیال رکھنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ ازدواجی زندگی محبت، سکون اور خوش حالی کے ساتھ گزرے، اسی لیے نکاح سے پہلے ہی گھر کی معتمد خواتین کے ذریعے یا خود ایک نظر دیکھ کر لڑکی کا حلیہ وغیرہ معلوم کر لینا چاہیے، البتہ جب نکاح ہو جائے تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس رشتے کو حتی الامکان محبت، صبر اور حسنِ معاشرت کے ساتھ نبھایا جائے اور معمولی ناپسندیدگی کی بنا پر اسے ختم نہ کیا جائے، پوچھی گئی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ یہ رشتہ اچھے طریقے سے نبھائے، لیکن اگر نباہ بالکل ممکن نہ ہو تو طلاق کی اجازت ہے۔
*القرآن الکریم:(النساء: 34:4)* { فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا} *أيضاً:(النساء: 19:4)* ﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ *صحيح مسلم:(178/4،رقم الحديث:63-(1469)،ط:دار طوق النجاة)* وحدثني إبراهيم بن موسى الرازي،حدثنا عيسى يعني: ابن يونس،حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن عمران بن أبي أنس عن عمر بن الحكم ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر، أو قال غيره ». *الشامية:(228/3،ط: دارالفكر)* وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى ﴿فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا﴾ [النساء: ٣٤] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق».