السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم! ایک آدمی کی شادی کو 6 سال ہو چکے ہیں اور اس کے 3 بچے بھی ہیں، لیکن اس کی بیوی اس کے ساتھ بہت بدتمیزی سے پیش آتی ہے۔ اس آدمی کے والدین بھی ہیں جو بیمار رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن اب اس کی بیوی اس سے کہتی ہے کہ: "میں آپ کے والدین کی خدمت نہیں کر سکتی اور نہ ان کے ساتھ رہ سکتی ہوں، مجھے ان سے الگ کرو۔" لیکن وہ آدمی اپنے والدین کو چھوڑنے پر راضی نہیں اور اسی بات پر اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا، جس کے بعد وہ اپنے میکے چلی گئی ہے۔ وہ اس بات پر بضد ہے کہ: "اگر مجھے الگ رکھو گے تو ٹھیک، ورنہ میں نہیں آؤں گی۔" اور آدمی اس بات پر بضد ہے کہ: "میں اپنے والدین سے الگ نہیں رہوں گا۔" اس کی بیوی اس کی والدہ، والد اور شوہر، تینوں کے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے۔ یہاں تک کہ شوہر کی والدہ دعا بھی کرتی ہیں کہ اللہ اسے میرے بیٹے سے جدا کر دے۔ اس کی بیوی کی بدتمیزیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور انہیں برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے، لیکن وہ اپنے بچوں کی وجہ سے بھی پریشان ہے۔ اس کی بڑی بیٹی 6 سال کی، بیٹا 5 سال کا اور ایک بیٹی چند ماہ کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس عورت کو طلاق دے سکتا ہے؟ کیونکہ اس نے بہت دفعہ پیار سے سمجھایا بھی، لیکن اس کی بیوی پر کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ اس کا رویہ دن بدن مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ اور اگر وہ طلاق دیتا ہے تو بچوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ والد بچوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔؟
1) اسلام نے ازدواجی زندگی کو محبت، احترام اور باہمی حقوق کی بنیاد پر قائم کیا ہے،اسی لیے جائز امور میں شوہر کی اطاعت بیوی پر لازم قرار دی گئی ہے، جبکہ شوہر کو ایذا دینا یا اس کی نافرمانی کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ 2) اسلام نے شوہر پر بیوی کے نان و نفقہ اور مناسب رہائش کا انتظام واجب کیا ہے، رہائش سے مراد ایسا گھر یا کمرہ ہے جہاں بیوی کو مناسب پرائیویسی حاصل ہو، اور اگر وہ الگ کھانا پکانا چاہے تو اس کی سہولت بھی فراہم کی جائے، الگ مکان دینا ہر حال میں ضروری نہیں، اگر بیوی خوش دلی سے شوہر کے والدین کی خدمت کرے تو یہ اس کے حسنِ اخلاق، سعادت اور باعثِ اجر عمل ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ساس حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہا کی خدمت اور گھریلو کاموں میں معاونت فرمایا کرتی تھیں۔ 3) واضح رہے کہ شرعی طور پر بچوں کا حق دار باپ ہوا کرتا ہے، البتہ ماں بچے کی سات سال کی عمر تک اور بچیوں کی نو سال کی عمر تک پرورش کا حق رکھتی ہے، بشرطیکہ ماں دوسری جگہ نکاح نہ کرے، اگر کسی اور جگہ نکاح کرلیا تو ماں کا حقِ پرورش ساقط ہوجائے گا۔
*السنن الكبرى للنسائى:254/8،رقم الحديث:(9103،ط:مؤسسة الرسالة)* أخبرنا محمود بن غيلان قال: حدثنا أبو أحمد قال: حدثنا مسعر، عن أبي عتبة، عن عائشة قالت: سألت النبي ﷺ أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: «أمه». *سنن أبی داؤد::475/3،رقم الحديث:(2140،ط: دار الرسالة العالمية)* حدثنا عمرو بن عون، أخبرنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن حصين، عن الشعبي عن قيس بن سعد، قال: أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فقلت: رسول الله أحق أن يسجد له، قال: فأتيت النبي - ﷺ - فقلت: إني أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم، فأنت يا رسول الله أحق أن نسجد لك، قال: «أرأيت لو مررت بقبري أكنت تسجد له؟» قال: قلت: لا، قال: «فلا تفعلوا، لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن، لما جعل الله لهم عليهن من الحق». *المعجم الكبير للطبراني:(24/ 353،ط: مكتبة ابن تيمية)* حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا أبي، ح وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا عثمان بن أبي شيبة، ثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مرة، عن أبي البختري، عن علي، قال: قلت لأمي فاطمة بنت أسد بن هاشم: «اكفي فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم سقاية الماء، والذهاب في الحاجة، وتكفيك خدمة الداخل الطحن، والعجن. *سنن أبي داود:( رقم الحديث:2178 ،ط: دار الرسالة العالمية)* عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق. *الهندية:(556/1،ط: دارالفكر)* "تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز.