ایک شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ بہت عرصے سے گھر میں جھگڑا چل رہا تھا، پھر خاندان کے لوگوں نے آپس میں بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے دونوں میاں بیوی کے درمیان صلح کروائی، خاندان کے لوگوں نے شوہر سے کہا کہ اس کے بعد اگر آپ نے دوبارہ جھگڑا کیا اور اپنی بیوی کو طلاق دی تو آپ اس کے بدلے میں بارہ تولے سونا دیں گے، شوہر نے کہا: "ٹھیک ہے، اگر میں نے اپنی اس بیوی کو طلاق دی تو بدلے میں بارہ تولے سونا دوں گا۔" بعد ازاں شوہر نے گواہوں کے سامنے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اب میاں بیوی کے درمیان اس معاملے میں اختلاف ہے۔ شوہر کا کہنا ہے کہ میں بارہ تولے سونا قسط وار دوں گا، کیونکہ میری اتنی مالی استطاعت نہیں کہ یکمشت ادا کرسکوں، میں غریب ہوں، جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ تم مجھے بارہ تولے سونا یکمشت ادا کرو گے۔ شریعت کی رو سے اس مسئلے کا کیا حکم ہے؟
شریعتِ مطہرہ میں کسی شخص پر مالی جرمانہ عائد کرنا جائز نہیں، کیونکہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں طلاق کی صورت میں بارہ تولے سونا بطورِ مالی جرمانہ مقرر کرنا شرعاً درست نہیں، اس لیے شوہر پر مذکورہ بارہ تولے سونا ادا کرنا لازم نہیں ہے۔
*السنن الكبرى للبيهقي:(166/6،ط:رقم الحديث:11545،ط:دار الكتب العلمية)* أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه، أنبأ أبو محمد بن حيان، ثنا حسن بن هارون بن سليمان، ثنا عبد الأعلى بن حماد، ثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله ﷺ قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه». *البحر الرائق:(44/5،ط:دار الكتاب الإسلامي)* والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وأما التعزير بالشتم فلم أره إلا في المجتبى قال وفي شرح أبي اليسر التعزير بالشتم مشروع ولكن بعد أن لا يكون قاذفا اهـ. *الشامية:(61/4،ط: دارالفكر)* مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.