عبادات / عملیات و اذکار / وظائف و عملیات

تسخیر نفس کا حکم

فتوی نمبر : 3402 0000-00-00 0 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! تسخیر نفس، ذاتی یا دینی مقاصد کے لیے شرعاً درست ہے یا نہیں، مفصل ومدلل تحریر فرمائیں۔ بعض شرک اور بعض مطلق جواز کے قائل ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی انسان یا جن کو سحر، غیر شرعی عزائم، شرکیہ کلمات یا شیاطین سے استعانت کے ذریعے مسخر کرنا شرعاً نا جائز ہے اور بعض صورتوں میں کفر و شرک تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح ارواحِ مشائخ کو حاضر کرنے، انہیں اپنے قابو میں لانے یا ان سے غیب کی خبریں حاصل کرنے کا دعویٰ باطل اور گمراہی ہے، البتہ اپنے نفس کی اصلاح و تزکیہ، اسے خواہشاتِ نفسانی سے بچانے اور شرعی احکام کا پابند بنانے کی کوشش مستحسن اور مطلوبِ شرع ہے۔ رہا مسئلہ دم، تعویذات اور عملیات کا تو قرآنی آیات، اسماءِ حسنیٰ اور مسنون دعاؤں کے ذریعے دم کرنا اور علاج یا دفعِ ضرر کے لیے شرعی حدود کے اندر جائز عملیات و تعویذات اختیار کرنا درست ہے، بشرطیکہ ان میں کوئی شرکیہ یا ناجائز عمل شامل نہ ہو اور عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی مؤثر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جو دم اور تعویذات شرکیہ کلمات، غیر اللہ سے استعانت یا مجہول المعنی الفاظ پر مشتمل ہوں، وہ ناجائز ہیں۔ قرآن و حدیث سے ثابت دم کے جواز میں اختلاف نہیں، جبکہ قرآنی آیات یا اسماءِ الٰہی پر مشتمل ایسے تعویذات جو نصوص سے صراحتاً ثابت نہ ہوں، ان کے جواز میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، جمہور اہلِ علم کچھ شرائط کے ساتھ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ تاہم کسی جائز دم یا تعویذ کو غلط عقیدے یا ناجائز مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ بھی ناجائز ہو جاتا ہے، لہٰذا ناجائز عملیات کی وجہ سے تمام جائز دم، تعویذات اور عملیات کی مطلقاً ممانعت کرنا بھی درست نہیں۔

القرآن الکریم:(النازعات 79:40) {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} صحيح مسلم: (7/ 19،ط:دار طوق النجاۃ) 64 - (2200) باب لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك حدثني أبو الطاهر ، أخبرنا ابن وهب ، أخبرني معاوية بن صالح ، عن عبد الرحمن بن جبير ، عن أبيه ، عن عوف بن مالك الأشجعي قال: « كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله، كيف ترى في ذلك؟ فقال: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك . ردالمختار :(4/ 240،ط:دارالفکر) وأما الكاهن، فقيل هو الساحر، وقيل هو العراف الذي يحدث ويتخرص، وقيل من له من الجن من يأتيه بالأخبار. وقال أصحابنا: إن اعتقد أن الشياطين يفعلون له ما يشاء كفر... ایضاً :(4/ 242) وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اهـ. البحر الرائق: (5/ 134،ط:دار الكتاب الإسلامي) وفي البزازية قال علماؤنا من قال أرواح المشايخ حاضرة تعلم يكفر ومن قال بخلق القرآن فهو كافر.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قرض کی ادائیگی کا وظیفہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عملیات کرنے اور اس پر اجرت لینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کنکھجورا اور بچھو وغیرہ سے حفاطت کا وظیفہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تسخیر نفس کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک کی نوکری چھوڑنے کے لیے وظیفہ