اقامت کا حقدار کون ہے؟

فتوی نمبر :
392
عبادات / نماز /

اقامت کا حقدار کون ہے؟

السلام علیکم!
ایک سوال ہے کہ کیا جو بندہ اذان دے گا وہی تکبیر پڑھے گا؟ اگر اور کوئی تکبیر پڑھتا ہے تو کیا اذان والے سے اجازت لینی ہوگی ؟
میرا یہ سوال مفتی صاحبان سے ہے اس کا مجھے جواب چاہیے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اقامت اسی شخص کا حق ہے، جو اذان دے،اس لیے مؤذن کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ ہے، البتہ اگر کسی اور نے اقامت کہی تو بھی نماز ادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار:(56/1،ط: دارالفكر)*
(أقام غير من أذن بغيبته) أي المؤذن (لا يكره مطلقا) وإن بحضوره كره إن لحقه وحشة، كما كره مشيه في إقامته (ويجيب)

*الشامية:(395/1،ط: دارالفكر)*
(أقام غير من أذن بغيبته) أي المؤذن (لا يكره مطلقا) وإن بحضوره كره إن لحقه وحشة،
من أنه ليس المقصود منه الإعلام فقط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
116
فتوی نمبر 392کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --