اذان کا جواب دینا

فتوی نمبر :
505
عبادات / نماز /

اذان کا جواب دینا

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر اذان کا جواب شروع سے غفلت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے بھول جائے اور درمیان میں یاد آجائے تو کس طرح سے اذان کا جواب دے : درمیان سے یا گزشتہ کلمات کا جواب دے کر بعد میں اگلے کلمات کا جواب دے یا کوئی اور طریقہ ہو تو رہنمائی فرمائیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں پہلے گزشتہ کلمات کا اعادہ کرلیں پھر باقی کلمات کو ادا کریں اور اگر سننے والے نے انتظار کیا اور موذن کے اذان ختم ہونے کے فورا بعد جواب دے دیا توتب بھی درست ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختارمع رد المحتار :(1/ 398، ط : دارالفكر)
ولو ‌لم ‌يجبه ‌حتى ‌فرغ لم أره. وينبغي تداركه إن قصر الفصل ... حيث قال: فلو سكت حتى فرغ كل الأذان ثم أجاب قبل فاصل طويل كفى في أصل سنة الإجابة كما هو ظاهر. ..واستفيد من هذا أن المجيب لا يسبق المؤذن بل يعقب كل جملة منه بجملة منه.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (1/ 713، ط: دارالفكر)
ويجيب المؤذن سواء سمع الآذان ‌كله ‌أم ‌بعضه. فإن لم يسمعه لبعد أو صمم لا تسن له الإجابة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
66
فتوی نمبر 505کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --