طلاق

"تم مجھے چھوڑ دو یامیں تمہیں چھوڑ رہاہوں "کہنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
542
معاملات / احکام طلاق / طلاق

"تم مجھے چھوڑ دو یامیں تمہیں چھوڑ رہاہوں "کہنے سے طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر سے کل کسی بات پر لڑائی ہوئی اور انہوں نے مجھے کہا کہ تم مجھے چھوڑ دو یا میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں ۔
اب میں پوچھنا یہ چاہتی ہوں کہ ان الفاظ سے ایک ساتھ طلاق ہوئی ہے یا ایک ہوئی کہ نہیں میں اس بات سے بہت پریشان ہوں ۔
براہ کرم ! جواب دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ لفظ "چھوڑنا "ہمارے عرف میں طلاق صریح ہے، لہذا طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو اس سے ایک طلا ق رجعی واقع ہوگئی ہے، اب عدت کے دوران آپ کا شوہر دوبارہ رجوع کرسکتا ہے ،البتہ اگر عدت گزر گئی تو پھر نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية:(2/ 254، ط: دار احياء التراث العربي
وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} .

الدرالمختار :(3/ 300، ط:دارالفكر)
«ففي حالة الرضا) أي غير الغضب ‌والمذاكرة (‌تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو .

آپ کے مسائل اوران کا حل :۶، ۴۳۹، ط:لدھیانوی کراچی )
میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
74
فتوی نمبر 542کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --