طلاق

تین پتھر دینے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
545
معاملات / احکام طلاق / طلاق

تین پتھر دینے سے طلاق کا حکم

غصہ میں طلاق کی نیت سے بیوی کی طرف تین پتھر پھینکنےسے طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے علماء کرام طلاق کے واقع ہونے کے قائل ہیں جب کہ کچھ علماء کراچی سے پڑھ کر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوتی آپ صحیح جواب عنایت فرماکر ہمارے رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کے الفاظ کا تلفظ کیے بغیر صرف تین پتھر پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

الشامية: (3/ 230،ط:دارالفكر)
(قوله وركنه لفظ مخصوص) ‌هو ‌ما ‌جعل ‌دلالة ‌على ‌معنى ‌الطلاق ‌من ‌صريح ‌أو ‌كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي.

الهندية: (1/ 357،ط:دارالفكر)
‌ولو ‌قالت ‌لزوجها ‌طلقني ‌فأشار ‌بثلاث ‌أصابع ‌وأراد ‌بذلك ‌ثلاث ‌تطليقات ‌لا ‌يقع ‌ما ‌لم ‌يقل ‌بلسانه ‌هكذا كذا في الظهيرية.

فتاوی مفتی محمود:(6/125)
کذا فی فتاوی فریدیہ:(5/455،ط:دارالعلوم صدیقیہ زروبی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
88
فتوی نمبر 545کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --