نماز میں سلام پھیرنے کا سنت طریقہ

فتوی نمبر :
663
عبادات / نماز /

نماز میں سلام پھیرنے کا سنت طریقہ

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے آخر میں سلام پھیرتے وقت جو " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کے الفاظ کہے جاتے ہیں اس میں سنت طریقہ کیا ہے ؟اس طرح اگر سلام پھیرتے وقت صرف " السلام " کہے اور " ورحمۃ اللہ " کے الفاظ نہ کہے تو واجب سلام پورا ہوجائے گا یا نماز دوبارہ لوٹانی پڑے گی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز میں سلام پھیرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ دائیں طرف اور پھر بائیں طرف چہرے کو پھیرےاور اگر کوئی صرف ’’ السلام علیکم ‘‘ کہہ کر نماز ختم کرے تو واجب ادا ہوجائے گا ، لیکن ایسا کرنا خلافِ سنت ہے ، البتہ نماز کو دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار: (1/ 524،ط:دارا لفکر)
(‌ثم ‌يسلم ‌عن ‌يمينه ‌ويساره) ‌حتى ‌يرى ‌بياض ‌خده؛ ‌ولو ‌عكس ‌سلم ‌عن ‌يمينه ‌فقط.

الهندية:(1/ 76،ط: دار الفكر)
(ثم ‌يسلم ‌تسليمتين) تسليمة عن يمينه وتسليمة عن يساره ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه حتى يرى بياض خده الأيمن وفي التسليمة الثانية عن يساره حتى يرى بياض خده الأيسر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
59
فتوی نمبر 663کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --