طلاق

عدالتی طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
793
معاملات / احکام طلاق / طلاق

عدالتی طلاق کا حکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیافرماتے ھے مفتیان کرام اس مسلہ کے حوالہ سے کہ ایک عورت جسے اپناشوھر طلاق دینانھیں چاھتا پھر وہ عورت کورٹ میں جاکر طلاق نامہ لیتی ھے تو آیاکورٹ کی طرف سے یہ عورت مطلقہ ھوجاتی ھے کہ نھیں؟ اور اپناشوھربھی زندہ ھے شوھر بیوی کوطلاق دینانھیں چاھتاھے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شریعت نے طلاق کا اختیار صرف شوہر کو دیا ہے، لہٰذا جب تک شوہر خود طلاق نہ دے یا طلاق کا اختیار عورت کو نہ دے، اُس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوتی ،اگر عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر طلاق دے دے تو شرعا ایسی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، البتہ اگر شوہر ظالم ہو،یا نان و نفقہ کی ادائیگی میں مستقل کوتاہی کر رہا ہو اور گواہوں کے ذریعے یہ بات ثابت ہو جائے تو ایسی صورت میں قاضی، اسلامی عدالت یا ایسا جرگہ اور پنچایت جس میں علماء شامل ہوں ان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ دونوں کے نکاح کو فسخ کر دیں۔

حوالہ جات

مصنف عبدالرزاق: (234/1،ط: توزيع المكتب الاسلامي)
١٢٩٤٥ - عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: كم يطلق العبد الحرة؟ قال: «يقول ناس: العدة والطلاق للنساء. وقال ناس: الطلاق للرجال ما كانوا والعدة للنساء ما كن». قلت: فأي ذلك أعجب إليك؟ قال: «الطلاق للرجال، والعدة للنسا.

الشامية:(230/3،ط: دار الفكر)
قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه،بخلاف السكران مضطرا أو مكرها،وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا،وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
108
فتوی نمبر 793کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --