تکلیف دینے والی بلی کو قتل کرنا

فتوی نمبر :
811
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

تکلیف دینے والی بلی کو قتل کرنا

السلام وعلیکم
مفتی صاحب بلی اگر نقصان کرے تو اسکو مارنا جائز ہے یا ناجائز ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عام حالات میں کسی بھی جانور کو ستانا،قتل کرنا درست نہیں، بلکہ ایسا کرنا گناہ ہے، تاہم اگر کوئی جانور موذی ہو اور تکلیف کا باعث بنتا ہو تو ایسے جانور کو مارنا جائز ہے، لیکن ضروری ہے کہ ایسے طریقے سے مارا جائے جس میں اسے زیادہ تکلیف نہ ہو، مثلاً: تیز دھار چھری یاگولی سے مار دیا جائے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني:( 381/1،ط: دارالكتب العلمية)
وفي «فتاوى أهل سمرقند»: الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب، ولا تفرك أذنها ولكنها تذبح بسكين حاد.

الهندية:(361/5،ط: دارالفكر)
الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
74
فتوی نمبر 811کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --