موضوع: سوشل میڈیا کے ذریعہ آمدنی کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته میرا سوال یہ ہے کہ:ہم اکثر اپنا قیمتی وقت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر ایپس پر ضائع کر دیتے ہیں۔ عام طور پر موبائل پر روزانہ چار پانچ گھنٹے ان ایپس میں گزر جاتے ہیں جس سے کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر اس کے بجائے کوئی شخص سوشل میڈیا کو مثبت اور جائز انداز میں استعمال کرے، مثلاً Twitter/X (سابقہ ٹویٹر) پر ایسا مواد شائع کرے جس میں کوئی ناجائز چیز شامل نہ ہو (جیسے جانوروں کی ویڈیوز، جنگلات اور قدرتی مناظر کی ویڈیوز، یا تخلیقی ویڈیوز، بشرطیکہ ان میں موسیقی یا خلافِ شرع چیز نہ ہو) اور اس کے ذریعے آمدنی حاصل کرے، تو کیا یہ آمدنی شرعاً جائز اور حلال ہوگی؟ یہاں دو صورتیں پیش آتی ہیں: 1. کوئی شخص اپنا اصلی اوریجنل کنٹنٹ بناتا ہے اور اسے Twitter/X پر اپ لوڈ کرتا ہے۔ 2. کوئی شخص اپنا کنٹنٹ نہیں بناتا بلکہ دوسروں کا پہلے سے موجود جائز کنٹنٹ (جیسے جانوروں یا قدرتی مناظر کی ویڈیوز بغیر موسیقی وغیرہ) کو استعمال کرتا ہے اور اسے reply یا پوسٹ میں شیئر کرتا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے عرض ہے کہ Twitter/X نے ایک نیا ریونیو ماڈل بنایا ہے جسے Creator Revenue Sharing کہا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: 1. کچھ لوگ Premium سبسکرپشن لیتے ہیں اور ماہانہ فیس کمپنی کو ادا کرتے ہیں۔ 2. کمپنی اس فیس میں سے ایک حصہ Content Creators کو دیتی ہے۔ 3. کمائی کا معیار یہ ہے کہ اگر کسی Creator کی پوسٹ یا اس کے reply پر زیادہ Premium users (یعنی Blue Tick والے) replies، likes یا impressions دیں تو اسے اس کے بدلے پیسے ملتے ہیں۔ 4. اس ماڈل میں ads revenue شامل نہیں ہوتا، بلکہ صرف Premium users کی سبسکرپشن فیس سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ 5. Reply بھی الگ content شمار ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص کسی پوسٹ پر reply میں اپنی ویڈیو یا لنک شیئر کرے اور اس پر Premium users engage کریں، تو اسے بھی پیسے ملتے ہیں۔ ???? ریفرنس کے لیے Twitter/X کی آفیشل پالیسی کا لنک حاضر ہے: https://help.x.com/en/using-x/creator-revenue-sharing اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس ماڈل کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً حلال ہے؟ خصوصاً اوپر بیان کی گئی دونوں صورتوں میں (یعنی اپنا کنٹنٹ یا دوسروں کا جائز کنٹنٹ استعمال کرنے کی صورت میں)۔ برائے مہربانی اس بارے میں مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ اطمینان کے ساتھ عمل کیا جا سکے۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً
اگر کوئی شخص اپنے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر کوئی تحریر یا ایسی ویڈیوز وغیرہ ڈالتا ہے، جو کہ جائز امور پر مشتمل ہوں اور کمپنی اس پر ویریفائیڈ اکاؤنٹس کی سبسکرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی رقم سے اس شخص کو کچھ پرافٹ دے اور اس کے کانٹینٹ پر اشتہار وغیرہ نہ دکھائے جاتے ہوں یا ایسے اشتہارات دکھائے جائیں جو جائز اشیا کے متعلق ہوں اور ان میں میوزک بھی نہ ہو تو ایسی آمدن جائز ہے ۔ اور اگر کمپنی اس پر ایسے اشتہارات لگا کر اس کو کچھ رقم ادا کرتی ہے جو کہ میوزک یا نا جائز چیزوں پر مشتمل ہوں تو یہ رقم اس شخص کے لیے حلال نہیں ہو گی، اس لیے کہ اس صورت میں ٹویٹر کمپنی ان اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو دیتی ہے، جب اشتہارات ناجائز چیزوں پر مشتمل ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہو گی۔
*الهندية:(449/4،ط: دارالفکر)* "ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو وعلى هذا الحداء وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى. كذا في غاية البيان." *الشامیة:(55/6،ط:دار الفکر)* "(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)."