میں ایک الیکٹرک مکینک ہوں پنکھے واشنگ مشین یا دوسرے الیکٹرانک سامان ریپئر کرتا ہوں ،ایک بندہ میرے پاس مثال کے طور پر خراب پنکھا لاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کو بنا دو، میں اس کا جائزہ لیتا ہوں ، اس میں ایک پرزہ خراب ہوتا ہے ، اب اس بندے کو میں کہتا ہوں کہ یہ تبدیل ہوگا اور تبدیل کرنے کے بعد آپ کا خراب پرزہ آپ کو واپس نہیں کروں گا اور 2 سو روپے نقد بھی لوں گا اور اگر آپ اپنا پرانا پرزہ وپس لے کر جائیں گے تو 4 سو روپے لوں گا ۔ اور مارکیٹ کا اصول بھی یہی ہے۔ سوال:درج بالا صورت حال میں بیان کیا گیا لین دین کیا شرعی طور پر درست ہے ؟
پوچھی گئی صورت میں اگر جانبین کی طرف سے رضامندی ہے تو پرانا پرزہ رکھ کر نیا پرزہ کم قیمت پر دینا یا پرانا پرزہ لیے بغیر نیا پرزہ زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے ، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ۔
*الشامية: (432،ط:دارالفكر)* كما جاز بيع (كرباس بقطن وغزل مطلقا) كيفما كان لاختلافهما جنسا (كبيع قطن بغزل) القطنز۔۔۔(قوله كرباس) بكسر الكاف ثوب من القطن الأبيض قاموس (قوله كيفما كان) متساويا أو متفاضلا اهـ ح (قوله لاختلافهما جنسا) لأنه وإن اتحد الأصل فقد اختلفت الصفة كالحنطة والخبز، وذلك اختلاف جنس كما سيأتي." *مجلة الأحكام العدلية: (31،ط:نور محمد)* (المادة 122) (بيع المقايضة بيع العين بالعين أي مبادلة مال بمال غير النقدين)