تکرار جنازے کے بارے میں سوال ہے ۔ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی آدمی کراچی میں فوت ہو جاتا ہے اور وہاں اس کے ساتھ ولی ہوتا ہے، لیکن دوسرے لوگ جنازہ پڑھتے ہیں، کبھی میت کا کوئی ولی شریک ہوتا ہے کبھی شریک نہیں ہوتا، اس کے بعد اپنے علاقے میں جاتے ہیں وہاں دوسرا جنازہ ہوتا ہے۔ تو کیا ولی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کراچی میں جنازے کے ساتھ موجود ہو اور جنازے میں شرکت نہ کرے اور اگر ایک ولی شریک ہو تو دوسرا اپنے علاقے میں پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر کراچی میں ایک ولی شریک ہو کیا وہ دوبارہ اپنے علاقے میں دوسرے ولی کے ساتھ جنازے میں شریک ہوسکتا ہے
واضح رہےکہ بیان کردہ صورت میں اگر میت کے ولی نے خود نمازِ جنازہ پڑھی یا اس کی اجازت سے پڑھی گئی تو فرضِ کفایہ ادا ہو گیا، دوبارہ نمازجنازہ پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ جنازہ ایک ہی بار پڑھنا اصل ہے، البتہ اگر ولی شریک نہ ہوا اور نہ اس کی اجازت سے جنازہ پڑھا گیا تو ولی دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، لیکن اس میں صرف وہی لوگ شامل ہوں گے جو پہلی نماز میں شریک نہ ہوئے ہوں، لہذا پوچھی گئی صورت میں کراچی میں نمازِ جنازہ ادا کرتے وقت اگر میت کا ولی شریک تھا یا اس کی اجازت سے نماز جنازہ ادا کی گئی تھی تو گاؤں میں دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں، خواہ پہلی مرتبہ تمام اولیاء شریک نہ ہوئے ہوں۔
*الدرالمختار:(2/ 222،ط:دارالفكر)* (فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره. *أيضاً:(2/ 223،ط:دارالفكر )* وإن صلى هو) أي الولي (بحق) بأن لم يحضر من يقدم عليه (لا يصلي غيره بعده. *بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(1/ 311،ط:دارالكتب العلمية)* ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحدانا عندنا، إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء، ثم حضر الولي فحينئذ له أن يعيدها... ولنا)ما روي «أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على جنازة فلما فرغ جاء عمر ومعه قوم فأراد أن يصلي ثانيا، فقال له النبي: صلى الله عليه وسلم الصلاة على الجنازة لا تعاد، ولكن ادع للميت واستغفر له» وهذا نص في الباب وروي أن ابن عباس وابن عمر - رضي الله تعالى عنهم - فاتتهما صلاة على جنازة فلما حضرا ما زادا على الاستغفار له وروي عن عبد الله بن سلام أنه فاتته الصلاة على جنازة عمر رضي الله عنه فلما حضر قال: إن سبقتموني بالصلاة عليه فلا تسبقوني بالدعاء له، والدليل عليه أن الأمة توارثت ترك الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى الخلفاء الراشدين والصحابة رضي الله عنهم. ولو جاز لما ترك مسلم الصلاة عليهم خصوصا على رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ لأنه في قبره كما وضع فإن لحوم الأنبياء حرام على الأرض، به ورد الأثر، وتركهم ذلك إجماعا منهم دليل على عدم جواز التكرار؛ ولأن الفرض قد سقط بالفعل مرة واحدة؛ لكونها فرض كفاية، ولهذا إن من لم يصل لو ترك الصلاة ثانيا لا يأثم وإذا سقط الفرض، فلو صلى ثانيا كان نفلا. الهندية(1/ 163،ط:دار الفكر) ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح.