السلام علیکم! اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی کاروبار کا مشورہ دے اور اسے اس کاروبار میں نقصان ہو جائے تو کیا مشورہ دینے والا اس نقصان کا ضامن ہوگا؟
اگر کسی شخص نے دوسرے کو کسی کاروبار یا سرمایہ کاری کا صرف مشورہ دیا اور بعد میں اس کاروبار میں نقصان ہو گیا تو محض مشورہ دینے کی وجہ سے وہ نقصان کا ضامن نہیں ہوگا، بلکہ کسی کے مال کی ذمہ داری اسی وقت لازم ہوتی ہے جب وہ خود اپنی رضامندی سے اس کی ضمانت قبول کرے، لہٰذا صرف مشورہ دینے والے پر نقصان کا تاوان لازم نہیں کیا جاسکتا ۔
*بدائع الصنائع:(2/6،ط:دار الكتب العلمية)* (أما) الركن فهو الإيجاب والقبول الإيجاب من الكفيل والقبول من الطالب وهذا عند أبي حنيفة ومحمد.......الكفالة ليست بالتزام محض بل فيها معنى التمليك لما نذكر والتمليك لا يتم إلا بالإيجاب والقبول كالبيع والجواب عن مسألة المريض نذكره من بعد إن شاء الله تعالى فإذا عرفت أن ركن الكفالة الإيجاب والقبول فالإيجاب من الكفيل أن يقول أنا كفيل أو ضمين أو زعيم أو غريم أو قبيل أو حميل أو لك علي أو لك قبلي أو لك عندي.