معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی پسند نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دینا

فتوی نمبر : 3345 0000-00-00 13 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

ہمارے ایک رشتہ دار نے شادی کی، شادی کے کچھ دنوں کے بعد کہنے لگے کہ مجھے بیوی پسند نہیں تو کیا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتے ہیں ؟ اس میں کوئی گناہ تو نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام نے نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے درمیان مناسب ہم آہنگی اور پسندیدگی کا خیال رکھنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ ازدواجی زندگی محبت، سکون اور خوش حالی کے ساتھ گزرے، اسی لیے نکاح سے پہلے ہی گھر کی معتمد خواتین کے ذریعے یا خود ایک نظر دیکھ کر لڑکی کا حلیہ وغیرہ معلوم کر لینا چاہیے، البتہ جب نکاح ہو جائے تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس رشتے کو حتی الامکان محبت، صبر اور حسنِ معاشرت کے ساتھ نبھایا جائے اور معمولی ناپسندیدگی کی بنا پر اسے ختم نہ کیا جائے، پوچھی گئی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ یہ رشتہ اچھے طریقے سے نبھائے، لیکن اگر نباہ بالکل ممکن نہ ہو تو طلاق کی اجازت ہے۔

*القرآن الکریم:(النساء: 34:4)* { فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا} *أيضاً:(النساء: 19:4)* ﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ *صحيح مسلم:(178/4،رقم الحديث:63-(1469)،ط:دار طوق النجاة)* وحدثني إبراهيم بن موسى الرازي،حدثنا عيسى يعني: ابن يونس،حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن عمران بن أبي أنس عن عمر بن الحكم ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر، أو قال غيره ». *الشامية:(228/3،ط: دارالفكر)* وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى ﴿فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا﴾ [النساء: ٣٤] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق».
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ ’’اگر آپ نے ایک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سے أزاد ہو’’۔
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد والد کو بیٹی سے ملنے سے روکنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق نامہ پربیوی کے دستخط کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کے طلاق کا دعویٰ کرنے اور شوہر کے انکار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تین طلاقوں کا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دھوکے سے نشہ کروائے ہوئے شخص کے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ذہنی مریض کی طلا ق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
غصے میں تو میری بیوی نہیں ہے، کہنے سے طلاق
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ایک دو تین کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کا شوہر سے کہنا کہ آپ مجھے میرے بھائی کی طرح پیارے ہیں یا میں آپ کو اپنے بھائی کی طرح پیار کرتی ہوں
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کو ’’طلاقن‘‘ کہنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے الفاظِ کنایہ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق علی المال کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زبانی،تحریری طلاق دیے بغیرسسر کو تین نوٹ دینے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چھوڑ دیا، میری طرف سے رشتہ ختم، کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
لفظ "طلا "کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
توفارغ کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
غصے کی حالت میں بیوی کو کہنا کہ دس دن عدت کر لے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ميسج كے ذریعے طلاق دینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے وسوسے اور زبان یا ہونٹ ہلانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق دوں کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میسج کےذریعےطلاق کا شرعی حکم