السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مرد نے اپنی بیوی کو موبائل فون پر میسج کیا بات بات پہ بولتی تھی ،چھوڑ دو چھوڑ دو، اب سچ میں چھوڑ دیا ہے،میری طرف سے ختم ہے رشتہ، میں نہیں چل سکتا تم لوگوں کے ساتھ، ساری زندگی ادھر آنے کی کوئی ضرورت نہیں، اب ہمیشہ کے لیے رشتہ ختم ہے ،دو ماہ کے بعد دوسری طلاق ہو جائے گی۔ پھر تیسری ۔ پھر کام ختم۔ ان الفاظ کا کیا حکم ہے؟ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ *تنقیح:* السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! اس بات کی وضاحت کریں کہ یہ لفظ کتنی دفعہ کہا گیا میں نے تمہیں چھوڑ دیا؟ *جواب تنقیح:* مفتی صاحب! پہلے ایک دفعہ کہا ہے کہ چھوڑ دیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی بات کو دو مرتبہ مختلف میسجز میں دہرایا ہے۔ جیسا کہ تحریر میں لکھا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ لفظ ’’ چھوڑدیا‘‘ یہ اگر چہ اصل میں کنایہ ہیں، لیکن عرف ِعام میں یہ الفاظ طلاق کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ،اس لیے اب یہ صریح طلاق کے حکم میں ہیں اور اس سے بغیر نیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے پہلے ایک مرتبہ یہ لکھا کہ: ”اب سچ میں چھوڑ دیا ہے“ تو اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔ اس کے بعد اگر اس نے مختلف میسجز میں ”چھوڑ دیا ہے“کے الفاظ دوبارہ لکھے تو اس کی دو صورتیں ہیں: 1-اگر ان الفاظ سے اس کی مراد پہلی طلاق ہی کی تاکید، تشریح یا اطلاع دینا تھی، نئی طلاق دینا مقصود نہ تھا تو ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع تو نہیں ہوگی، البتہ میرا تیرا رشتہ ختم، اس سے مزید ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی، مجموعی طور پر دو طلاقیں ہو جائیں گی، ایک صریح دوسری کنایہ، کنایہ طلاق کے بعد اگر شوہر اور بیوی ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرنا ہوگا اور پھر اس کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔ 2- اگر ہر مرتبہ نئے سرے سے طلاق دینا مقصود تھا تو ہر مرتبہ ایک ایک طلاق واقع ہوگی، یہاں تک کہ مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، البتہ شوہر کا یہ لکھنا کہ:”دو ماہ کے بعد دوسری طلاق ہو جائے گی، پھر تیسری، پھر کام ختم“ محض آئندہ طلاق دینے کی خبر یا ارادہ ہے، اس سے فی الحال دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوتی، جب تک وہ ان اوقات میں ازسرِ نو طلاق نہ دے یا ان الفاظ کو کسی ایسی شرط کے ساتھ معلق نہ کرے جس سے شرعاً تعلیقِ طلاق ثابت ہو۔
*الشامية:(3/ 299،ط:دارالفكر)* فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي. *الهندية:(375/1،ط:دارالفكر)* ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى. *أيضا:(376/1،ط: دارالفكر)* ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية. *ملتقى الأبحر:(40/1،ط:دار الكتب العلمية* ) والصريح يلحق الصريح والباين يلحق الصريح لا الباين إلا إذا كان معلقا بالشرط.