تدفین

جسم کے كٹے ہوئے حصے کو دفن کرنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1306
عبادات / جنائز / تدفین

جسم کے كٹے ہوئے حصے کو دفن کرنے کا شرعی حکم

میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک اُنگلی مشین میں آ گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ اُنگلی کٹ گئی تو اب اس اُنگلی کو دفن کرنا چاہیے یا نہیں؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ کسی شخص کے جسم کا کوئی حصہ کٹ جائے تو اسے پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا چاہیے،لہذا پوچھی گئی صورت میں انگلی کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ دفن کردیں۔

حوالہ جات

*الشامية : (2/ 205،ط:دارالفكر)*
(قوله كالعضو من الميت) أي لو وجد طرف من أطراف إنسان أو نصفه مشقوقا طولا أو عرضا ‌يلف ‌في ‌خرقة إلا إذا كان معه الرأس فيكفن.

*موسوعة الفقه الإسلامي للتويجري:(2/ 780،ط: بيت الأفكار الدولية)*
والعضو المقطوع من المسلم الحي لا يجوز إحراقه ولا يغسل ولا يصلى عليه، لكن ‌يلف ‌في ‌خرقة ويدفن في المقبرة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
47
فتوی نمبر 1306کی تصدیق کریں