تدفین

کنگھی سے ٹوٹے ہوئے بالوں کا حکم

فتوی نمبر :
1334
عبادات / جنائز / تدفین

کنگھی سے ٹوٹے ہوئے بالوں کا حکم

اگر کسی عورت کے بال کنگھی کرنے یا کٹوانے کے بعد جمع ہو جائیں تو کیا ان کو ذخیرہ کر کے سمندر میں پھینکنے کا حکم ہے، اگر سمندر دور ہو وہاں پہنچانا ممکن نہ ہو تو کیا ان بالوں کو جلا دینا جائز ہے؟ جلانے میں کوئی حرج یا شرعی ممانعت ہے یا ان کے لیے کوئی مخصوص طریقۂ disposal (نکاسی) بتایا گیا ہے؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان کے بال (مرد کے ہوں یا عورت کے )انسان کے جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابل احترام ہیں، اس لیے ان کو جلانا تو جائز نہیں، بلکہ انہیں دفن کر دیا جائے یا سمندر میں ڈال دیا جائے یا ٹکڑے ٹکڑے کر کے کسی کپڑے، کاغذ یا شاپر وغیرہ میں لپیٹ کر کہیں ایسی جگہ ڈال دیا جائے جہاں بے توقیری نہ ہو اور اجنبی کی نظر بھی نہ پڑے۔

حوالہ جات

*المعجم الكبير للطبراني: (22/ 32،رقم الحدیث:73،ط: مكتبة ابن تيمية)*
حدثنا علان بن عبد الصمد الطيالسي ماغمة قال: ثنا محمد بن الحسن الأسدي، ثنا أبي، ثنا قيس، عن عبد الجبار بن وائل، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كان يأمر ‌بدفن ‌الشعر، والأظفار.

*حاشية الطحطاوي: (527،ط:دارالکتب العلمية)*
وفي الخانية ينبغي أن يدفن قلامة ظفره ‌ومحلوق ‌شعره وإن رماه فلا بأس وكره إلقاؤه في كنيف أو مغتسل لأن ذلك يورث داء وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر والظفر وقال لا تتغلب به سحرة بني آدم اهـ ولأنهما من أجزاء الآدمي فتحترم وروى الترمذي عن عائشة رضي الله عنها كان صلى الله عليه وسلم أمر بدفن سبعة أشياء من الإنسان الشعر والظفر والحيضة والسن والقلفة والمسحة اهـ والحيضة بكسر الحاء المهملة خرقة الحيض والجمع محايض كذا في الصحاح ولعل المسحة الخرقة التي يمسح بها ما خرج من الإنسان من نحو دم وأستغفر الله العظيم والله سبحانه وتعالى أعلم۔

*الشامية:(405/6،ط:دارالفكر)*
فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية ويدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم عتابية.

* الهندية:(5/ 329،ط:دارالفکر)*
والأصح أن كل عضو ‌لا ‌يجوز ‌النظر ‌إليه قبل الانفصال لا يجوز بعده كشعر رأسها وقلامة رجلها وشعر عانتها، كذا في الزاهدي.

*کذا فی فتاوی محمودیۃ:(19/452،ط:ادارۃ الفاروق)*

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
64
فتوی نمبر 1334کی تصدیق کریں