نکاح

خط کے ذریعے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1328
معاملات / احکام نکاح / نکاح

خط کے ذریعے نکاح کا حکم

کیا فون یا خط کے ذریعے نکاح ہوسکتا ہے؟ یعنی اگر ایک شخص کسی عورت کو خط بھیجے کہ "میں نے تمہیں نکاح میں لیا" اور عورت وہ خط گواہوں کے سامنے پڑھ کر کہے کہ "میں نے بھی قبول کیا" تو کیا اس طرح نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مرد نے عورت کو نکاح کا پیغام خط کے ذریعے بھیجا اور عورت نے اس خط کو دو گواہوں کے سامنے پڑھ کر نکاح قبول کرلیا تو ایسا نکاح شرعاً درست ہے۔

حوالہ جات

*الشامية:(12/3،ط: دارالفكر)*
ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد.

*فتح القدير للكمال ابن همام:(197/3،ط:دار الفكر)*
ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب، وصورته أن يكتب إليها يخطبها، فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه، أو تقول إن فلانا قد كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه. أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1328کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --