السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
مفتی صاحب! بات دراصل یہ تھی کہ میرا نکاح ویڈ یو کال کے ذریعے ہوا، میری اور لڑکے کی مجلس ایک نہیں تھی، لڑکا وکیل لے کر آیا تھا کہ یہ نکاح کا وکیل ہے میں بھی اس پر راضی ہوگئی، نکاح کے دو گواہ بھی لڑکا ہی لے کر آیا تھا، دونوں کا ایک ہی وکیل تھا اور گواہ بھی لڑکے کے تھے، مولوی صاحب نے شرائط پوچھی تھیں تو میں نے تین شرطیں بولی تھیں :
(1) لڑکا مجھے میرے گھر سے رخصت کر کے لے جائے گا ۔
(2) وہ میری اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کرے گا ۔
(3) پانچ مرلہ زمین میرے نام کرےگا۔
اس کے بعد مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا، ویڈیو کال پر ہی نکاح کیا، اس طرح نکاح کرنے سے نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں ؟
شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوں، اس مجلس میں فریقین خود موجود ہوں یا ان کے وکیل موجود ہوں، اور دو گواہ اسی مجلس میں ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں، اگر فریقین میں سے کوئی خود مجلسِ نکاح میں حاضر نہ ہو تو وہ اپنا وکیل مقرر کرسکتا ہے، جو مؤکل کی طرف سے اس کا نام اور ولدیت لے کر ایجاب یا قبول کرے، اس طرح نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔
نیزایک ہی شخص مرد اور عورت دونوں کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے۔
ویڈیو کال کے ذریعے ایجاب و قبول کرنے سے مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ اگر ویڈیو یا فون کال پر کسی شخص کو وکیل بنایا جائے اور وہ وکیل ایک ہی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلے تو ایسی صورت میں نکاح شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ لڑکی کا وکیل اور لڑکا ایک ہی مجلس میں موجود تھے، جس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہوا ہے، لہذا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے۔
*الدر مع الرد:(14/3،ط: دارالفكر)*
ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.
(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا.
*الهندية:(294/1،ط: دارالفكر)*
يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده امرأة قالت لرجل: زوجني ممن شئت لا يملك أن يزوجها من نفسه، كذا في التجنيس والمزيد رجل وكل امرأة أن تزوجه فزوجت نفسها منه لا يجوز، كذا في محيط السرخسي وإذا وكل رجلا أن يزوجه امرأة بعينها ببدل سماه فزوجها الوكيل لنفسه بذلك البدل جاز النكاح للوكيل، كذا في المحيط.
*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(6726/9،ط: دارالفكر)*
يرى الحنفية: أنه يصح التوكيل بعقد الزواج من الرجل والمرأة إذا كان كل منهما كامل الأهلية أي بالغا عاقلا حرا؛ لأن للمرأة عندهم أن تزوج نفسها، فلها أن توكل غيرها في العقد.
*الدر المختار:(96/3،ط: دارالفکر)*
(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلي (ليس) ذلك الواحد (بفضولي) ولو (من جانب) وإن تكلم بكلامين على الراجح لأن قبوله غير معتبر شرعا لما تقرر أن الإيجاب لا يتوقف على قبول غائب.