کیافرماتےہیں مفتیان کرام ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ٹریفک چوکی ہے، جس میں ٹریفک تھانہ اور رہائشی کوارٹربھی موجودہیں،ٹوٹل جگہ سرکاری ہےاسمیں ایک مسجدہے، کئی عشروں سےاس میں باجماعت پانچوں نمازیں اورجمعہ ہوتا چلا آرہاہے،پولیس انتظامیہ اس ساری جگہ میں پلازے بناناچاھتی ہےجس کی وجہ سےپرانی عمارتیں گرائی جارہی ہیں اور اس مسجدکوبھی گرایاجارہاہے،انتظامیہ کاکہناہےکہ ہم نئی تعمیرمیں مسجد بنائیں گے، لیکن جگہ تبدیل ہوگی اورزمین کی ملکیت اس وقت مکمل سرکاری ہے،سرکارکےبقول یہ جگہ مسجدکے لیے وقف شدہ نہیں ہے،بلکہ لوگوں اورپولیس کی آسانی کے لیے اس کونمازكی ادائیگی کےلیے بنایاگیاتھا اورکئی بار اس مسجدکی تعمیربھی ہوچکی ہے۔
اب پہلا سوال یہ ہےکہ یہ مسجد،مسجدشرعی کےحکم میں ہوگی یامصلی کے۔
نمبردو: سوال یہ ہےکہ حکومت اس مسجدکی جگہ تبدیل کرسکتی ہے؟جب کہ کئی سالوں سے اس میں باجماعت پانچوں نمازیں اور جمعہ ہوتا چلا آرہاہے۔
مسجدِ شرعی کے لیے زمین کا باقاعدہ وقف ہونا اور مالک یا حکومت کی اجازت ضروری ہے، اگر اجازت کے بغیر کسی سرکاری یا نجی زمین پر مسجد بنائی جائے تو وہ شرعاً مسجد نہیں، بلکہ صرف مُصلی شمار ہوگی،جب تک حکومت اس جگہ کو باضابطہ طور پر مسجد کے لیے الاٹ نہ کردے وہاں مسجد کے احکام جاری نہیں ہوتے، تاہم عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے اس کا احترام لازم ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں ،اگر سرکار کی طرف سے اس جگہ صرف نماز کی اجازت دی گئی ہے، مسجد کے لیے وقف نہیں کی گئی تو یہ مصلی کے حکم میں ہوگی، اسے گرانا اور تبدیل کرنا جائز ہوگا،لیکن اگر یہ جگہ مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو تو یہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی اور قیامت تک مسجد کے حکم میں رہے گی، اسے گرانا اور تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا۔
*البحر الرائق:( 269/5،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ومن بنى مسجدا في أرض مملوكة له إلى آخره فأفاد أن من شرطه ملك الأرض ولذا قال في الخانية ولو أن سلطانا أذن لقوم أن يجعلوا أرضا من أراضي البلدة حوانيت موقوفة على المسجد أو أمرهم أن يزيدوا في مسجدهم قالوا إن كانت البلدة فتحت عنوة وذلك لا يضر بالمارة والناس ينفذ أمر السلطان فيها وإن كانت البلدة فتحت صلحا لا ينفذ أمر السلطان لأن في الأول تصير ملكا للغانمين فجاز أمر السلطان فيها وفي الثاني تبقى على ملك ملاكها فلا ينفذ أمره فيها اهـ.
*الهندية:(110/1،ط: دارالفكر)*
مسجد بني على سور المدينة قالوا لا يصلى فيه؛ لأن السور حق العامة وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كانت البلدة فتحت عنوة وبنى مسجد بإذن الإمام جازت الصلاة فيه؛ لأن للإمام أن يجعل الطريق مسجدا فهذا أولى.