السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم!
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک اہم شرعی مسئلہ میں آپ کی رہنمائی مطلوب ہے، براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
میں ایک عالمِ دین ہوں اور مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اسی کے ساتھ مسجد کے تحت دینی تعلیم کا نظام بھی قائم ہے۔ وقتاً فوقتاً اس ادارے کے مختلف ضروری اخراجات پیش آتے رہے، جن میں تعمیراتی کام، اساتذہ و عملے کی تنخواہیں، بجلی کے بل اور دیگر ضروری انتظامی امور شامل ہیں۔
معاملہ یہ ہے کہ مختلف اوقات میں میری طرف سے اس مسجد اور دینی تعلیمی نظام کے کاموں میں ایک بڑی رقم خرچ ہوئی ہے۔ میرے اندازے کے مطابق یہ رقم تقریباً 14 لاکھ روپے کے قریب بنتی ہے، لیکن چونکہ میرے پاس باقاعدہ حساب کتاب، رسیدات یا تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہے، اس لیے میں یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مکمل رقم 14 لاکھ ہی ہے۔ ممکن ہے یہ رقم 10 لاکھ ہو، یا 12 لاکھ ہو، یا 14 لاکھ کے قریب ہو۔ چونکہ حساب محفوظ نہیں ہے، اس لیے یہ رقم صرف اندازاً بیان کر رہا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ رقم حقیقتاً اسی مسجد و دینی تعلیمی نظام کے کاموں میں خرچ ہوئی ہے اور اس میں میری کوئی ذاتی منفعت یا ذاتی استعمال شامل نہیں تھا۔ یہ تمام رقم تعمیراتی کام، تنخواہوں، بجلی کے بلوں اور اسی نوعیت کے ضروری اخراجات میں صرف ہوئی۔
تاہم اس وقت میرے پاس ان اخراجات کا کوئی باقاعدہ تحریری ثبوت، رسید یا حسابی اندراج موجود نہیں ہے، جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ اصل رقم کتنی تھی اور کن تاریخوں میں خرچ ہوئی۔
اب میں احتیاط، دیانت داری اور شرعی ذمہ داری کے پیش نظر یہ چاہتا ہوں کہ جو رقم اندازاً میرے ذمہ بنتی ہے، اسے دوبارہ ادارے کے فنڈ میں واپس کر دوں، تاکہ میں ہر قسم کے حق سے عند اللہ بری الذمہ ہو جاؤں۔
اس سلسلے میں چند سوالات میں رہنمائی فرمائیں:
(1)جب اصل رقم یقینی طور پر معلوم نہ ہو اور صرف اندازہ ہو تو شرعاً کس رقم کو واپس کرنا لازم ہوگا؟
(2)کیا زیادہ سے زیادہ اندازے کے مطابق رقم واپس کرنا بہتر اور باعثِ برأت ہوگا؟
(3)چونکہ میرے پاس خرچ کا کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں ہے تو کیا میری دیانت دارانہ گواہی اور غالب گمان کافی ہوگا؟
(4)کیا یہ رقم قسطوں میں واپس کی جا سکتی ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرما دیں۔
*تنقیح:*
حضرت اس بات کی وضاحت کردیں، کیا آپ سے ان پیسوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ؟
اور آپ کو یہ پیسے کس مد میں دیے جاتے رہے ؟
جب آپ نے پیسے مسجد، مدرسے ہی کے مصرف پر خرچ کیے ہیں تو آپ کس لیے پیسے واپس کررہے ہیں ؟
اس کی وضاحت کردیں ۔
*جواب تنقیح:*
پہلے سوال کا جواب:
میں خود مسجد کا متولی اور مہتمم ہوں، اس لیے مجھ سے کسی کی طرف سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔
دوسرے سوال کا جواب:
لوگ مجھے اسی نیت سے پیسے دیتے رہے ہیں کہ میں انہیں مسجد اور مدرسے کے کاموں میں خرچ کروں اور میں نے بھی انہیں اسی مصرف میں استعمال کیا ہے۔
تیسرے سوال کا جواب:
یہ رقم میرے پاس ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ میرا یقین تو یہی ہے کہ میں نے یہ مسجد اور مدرسے ہی کے اوپر خرچ کیے ہیں، لیکن میرے پاس ان اخراجات کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں سے کچھ رقم میرے ذاتی اخراجات میں استعمال ہو گئی ہو، اسی لیے میں احتیاطاً اس کی ادائیگی کر نا چاہتا ہوں۔
واضح رہے کہ جو مال کسی کے پاس امانت کے طور پر ہو، وہ اس وقت تک اس کا ضامن نہیں بنتا، جب تک اس سے کوئی خیانت، زیادتی یا واضح کوتاہی ثابت نہ ہو۔
نیز حساب کتاب کا محفوظ نہ ہونا ایک انتظامی کمزوری ہے، جس سے آئندہ لازماً بچنا چاہیے، لیکن اس کو بنیاد بنا کر خود کو مقروض نہیں سمجھنا چاہیے ۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کو جو رقم لوگوں نے دی، وہ اسی حیثیت سے دی کہ آپ اسے مسجد اور مدرسے کے کاموں میں خرچ کریں اور آپ خود بھی اقرار کر رہے ہیں کہ آپ نے اسے انہی مصارف میں صرف کیا ہے اور آپ کا غالب گمان بھی یہی ہے۔ ایسی صورت میں اصولاً آپ بری الذمہ ہیں، محض اس وجہ سے کہ تحریری ریکارڈ موجود نہیں، آپ پر رقم واپس کرنا لازم نہیں، لیکن اگر آپ کے دل میں یہ قوی شبہ ہے کہ اس میں سے کچھ رقم غیر ارادی طور پر ذاتی استعمال میں آ گئی ہے تو پھر احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جتنی رقم کے بارے میں شبہ غالب ہو، اتنی رقم واپس کر دی جائے اور اگر یہ شبہ محض وہم کی حد تک ہے تو پھر کچھ بھی واپس کرنا لازم نہیں۔
البتہ اگر آپ مزید اطمینان اور برأتِ ذمہ چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے زیادہ رقم ادا کر دیتے ہیں تو یہ یقیناً تقویٰ اور احتیاط کے درجے میں ہے۔
اسی طرح آپ جتنی رقم واپس کرنا چاہتے ہیں اسے قسطوں میں ادا کرنا بھی جائز ہے۔
*القرآن الکریم:( البقرہ:282:2)*
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ.
*مجلة مجمع الفقه الإسلامي:(1226/8،ط:المؤتمر الإسلامي بجدة)*
(الضرر يدفع بقدر الإمكان):
والدفع هو الحيلولة دون الوقوع، باتخاذ الإجراءات والاحتياطات الكفيلة بالوقاية منه، سواء كانت سلبية بالامتناع من أفعال مؤدية للضرر، أو إيجابية بالأخذ بما يعصم منه، ومفاد هذا أن الضرر لا يتريث فيه حتى يقع؛ بل يبذل كل ما أمكن لدفعه.
كما أن دفع الضرر إن لم يمكن كلية يدفع المقدار الممكن منه.
*مجلة مجمع الفقه الإسلامي:(176/6،ط:المؤتمر الإسلامي بجدة)*
مشروعية تأجيل الدين وتقسيطه
إن تأجيل الدين مشروع وإن كان خلاف الأصل.
ومشروعيته ثبتت بالقرآن الكريم والسنة النبوية واتفاق الأمة.
ففي القرآن الكريم جاء قوله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ [سورة البقرة: الآية ٢٨٢] فالنص يصرح بجواز تأجيل الدين، ومقتضى تسمية الأجل معلوميته، أما الكتابة فقد حملت على الندب لا الوجوب.
ومن السنة النبوية المطهرة «أن النبي ﷺ اشترى طعامًا وأجل الثمن»كما أن الأمة زاولت وما تزال تزاول هذه الصيغة من التعامل لا يعلم مخالف في هذا.