آمدنی و مصارف

مدرسے کی خالی زمین کرایہ پر دے کر اس کی رقم اپنے استعمال میں لانے کا حکم

فتوی نمبر :
1463
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

مدرسے کی خالی زمین کرایہ پر دے کر اس کی رقم اپنے استعمال میں لانے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مدرسہ ہے اور اس کی کچھ زمین خالی ہے، کیا میں اس کو کرائے پر دے کر اس کا پیسہ اپنے استعمال میں لا سکتا ہوں یا نہیں؟ وضاحت فرمائیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مدرسہ کی زمین کو مدرسہ کے مصارف ہی میں استعمال کرنا ضروری ہے، البتہ اگر واقف نے مدرسے کی زمین کو متولی کی صوابدید پر چھوڑا ہو اور اس زمین کو خاص مدرسہ میں استعمال کے ساتھ مقید نہ کیا ہو تو اس خالی جگہ کو عارضی طور پر کرایہ پر دینا چند شرائط کےساتھ جائز ہے:
۱)کرائے کی مدت ایک سال سے زیادہ نہ ہو۔
۲)کرایہ عرف کے مطابق (مارکیٹ ریٹ پر) طے کیا جائے۔
۳)ایسے شخص کو جگہ کرایہ پر نہ دی جائے جس سے قبضہ یا تنازعہ کا اندیشہ ہو۔
نیز واضح رہے کہ کرائے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مدرسے کی ضروریات مثلاً طلبہ، اساتذہ، یا تعمیری اخراجات پر خرچ کرنا ضروری ہے، اپنے ذاتی استعمال میں خرچ کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(299/7،ط: دارالکتاب الاسلامي)*
واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجرة المثل أو أكثر فلو آجر الناظر بدون أجرة المثل لا تصح الإجارة ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.

*الدر المختار:(379/1،ط: دار الفكر)*
شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم.

*ايضاّ:(352/4،ط: دار الفكر)*
"(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن).(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه.

*الاختيار لتعليل المختار:(48/3،ط: دار الكتب العلمية)*
والمتأخرون قالوا: لا يجوز أكثر من سنة لئلا يتخذ ملكا بطول المدة فتندرس سمة الوقفية ويتسم بسمة الملكية لكثرة الظلمة في زماننا وتغلبهم واستحلالهم، وقيل: يجوز في الضياع ثلاث سنين وفي غير الضياع سنة وهو المختار ; لأنه لا يرغب في الضياع أقل من ذلك، ولا تجوز إجارته إلا بأجر المثل دفعا للضرر عن الفقراء، فلو آجره ثلاث سنين بأجرة المثل ثم ازدادت لكثرة الرغبات لا تنقض الإجارة ; لأن المعتبر أجر المثل يوم العقد، وليس للموقوف عليه ‌إجارة ‌الوقف إلا أن يكون وليا من جهة الواقف أو نائبا عن القاضي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
36
فتوی نمبر 1463کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --