آمدنی و مصارف

دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو ملنے والے وظیفے کاحکم

فتوی نمبر :
473
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو ملنے والے وظیفے کاحکم

السلام علیکم
ایک شخص نے دو مختلف ملکوں کی قومی پہچان حاصل کر رکھی ہے، جبکہ وہ رہتا ایک ہی ملک میں ہے اور تمام تر کاروبار وغیرہ بھی اسی رہائشی ملک میں ہے ۔ ایسی صورت میں دوسرے ملک سے ملنے والا حکومتی وظیفہ اس کیلئے جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر دوہری شہریت رکھنے والے شخص نے وظیفہ حاصل کرنے کے لیے غلط بیانی، دھوکہ دہی، جھوٹ اور خیانت سے کام نہ لیا ہو، نیز رہائش اور کاروبار کے لیے وضع کردہ شرائط سمیت دیگر شرائط کاپابند ہو تو اس کے لیے وظیفہ لینادرست ہوگا اور اگر ان اصول وضوابط کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے وظیفہ لینا درست نہیں ۔

حوالہ جات

*سنن الترمذی :(رقم الحدیث1352،ط:دارالغرب الاسلامی)*
حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني ، عن أبيه ، عن جده أن رسول الله ﷺ قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما،» والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما.

*الاشباہ والنظائر:(166،ط:دارالکتب العلمیة)*
أوقاف الأمراء والسلاطين كلها إن كان لها أصل من بيت المال أو ترجع إليه، فيجوز لمن كان بصفة الاستحقاق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
84
فتوی نمبر 473کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --