آمدنی و مصارف

رشوت کے پیسوں سے بنایا ہوا گھر اس کے کرایہ کا حکم

فتوی نمبر :
565
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

رشوت کے پیسوں سے بنایا ہوا گھر اس کے کرایہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے رشوت کی رقم سے گھر بنایا ہے اور اب اسے کرایہ پر دے رکھا ہے اس گھر کے کرایہ کا کیا حکم ہے حلال ہے یا حرام ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر اس کا اکثر مال حلال کا ہو تو اتنی مقدار میں کرایہ بھی حلال ہوگا اور اس کے علاوہ کی رقم کو صدقہ کردے ۔

حوالہ جات

الشامية :(5/ 235، ط:دارالفكر)
(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: ‌رجل ‌اكتسب ‌مالا ‌من ‌حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها .... وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب .

ايضا: (5/ 98، ط :دارالفكر)
(قوله ‌الحرام ‌ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك ... (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
80
فتوی نمبر 565کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --