آمدنی و مصارف

انشورنس کا حکم

فتوی نمبر :
516
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

انشورنس کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی اس طور پر انشورنس کرواتی ہے کہ دس سال تک آپ نے سالانہ پچپن ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے اور بیس سال کے بعد آپ کو کمپنی پچاس لاکھ روپے دے گی اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انشورنس کے مروجہ جتنے طریقے ہیں ان میں سود اور قمار(جوا)پایا جاتا ہے جو کہ شرعا حرام ہے انشورنس کمپنی سے اتنی ہی رقم وصول کرنا جائز ہے جتنی رقم جمع کرائی گئی ہے اس سے زیادہ وصول کرنا ناجائز اور حرام ہے ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:[البقرة: 275]
وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ۔

سنن الترمذي:(رقم الحديث: 1206، ط:دارالغرب الاسلامي)
عن ابن مسعود قال: ‌لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه.

الشامية :(5/ 166، ط : دارالفكر)
(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا .

الفقه الحنفي :334\4 ، ط :دارالقلم
قولہ : فمن زاد او ازداد فقد اربیٰ معناہ فقد فعل الربا المحرم فدافع الزیادۃ واخذھا عاصیان ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
105
فتوی نمبر 516کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --