السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہیں تمام احباب خیریت سے ہوں گے ۔
ایک شخص آن لائن ٹریڈنگ میں پیسے کماتا ہے ۔ جس کا طریقہ کار ہے کہ ایک ویب سائٹ ہے جس پر کچھ مشینوں کی پکچر نام وغیرہ شائع ہوتے ہیں اور ساتھ میں قیمت لکھی ہوتی ہے کہ اگر یہ مشین آپ دس ڈالر میں خریدتے ہیں تو روزانہ آپ کو ایک ڈالر پرافٹ ملے گا اور ایک ماہ، دو ماہ یا کم زیادہ دنوں تک یہ پرافٹ آپ کو ملتا رہےگا ۔ اس کے بعد دوبارا یہی ۔مشین یا کوئ اور میشن خرید کر دوبارہ سے سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔
اور اس سسٹم سے وابستہ افراد جو اس سے متعلق کچھ معلومات رکھتے ہیں کہ یہ جو ۔مشین آپ خریدتے ہیں یہ مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینیں ہیں یعنی زمین میں معدنیات وغیرہ تلاش کرنے والے کام میں استعمال ہوتی ہیں، ان سے جو آمدن ہوتی ہے اس پرافٹ میں سے آپ کو پرافٹ دیا جاتا ہے ۔
(1) سوال کیا مندرجہ بالا طریقہ کار سے پیسے لگا کر پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں ؟
(2)سوال :اگر کوئ شخص اس کام سے پیسے کماتا ہے اور ساتھ میں دوسری جگہ بھی اپنا کام کاج کرتا ہے، لیکن وہ مندرجہ بالا آن لائن ارننگ میں لوگوں کو انوائیٹ کرتا ہے، جس پر اس کو ریفرل بو نس اور ویکلی بونس ملتا ہے پھر بونس ملنے پر وہ پیسے نکالتا ہے اور دعوت کرتا ہے تو یہ دعوت کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟ جزاک اللّہ۔
(1) پوچھی گئی صورت میں مروجہ آن لائن ٹریڈنگ چند وجوہات کی بنا پر جائز نہیں ۔
1: ان صورتوں میں عموماً اشیا کی خرید وفروخت محض کاغذی کارروائی تک محدود ہوتی ہے، حقیقی خریداری یا قبضہ نہیں ہوتا۔
2: اگر بالفرض حقیقی خریداری ہو بھی رہی ہو تو اس میں چونکہ پرافٹ فکس دیا جا رہا ہے جو کہ جائز نہیں، بلکہ شراکت داری میں پرافٹ فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے ۔
(2) جو کام خود جائز نہیں، اس کی دوسروں کو دعوت دینا بھی جائز نہیں اور نہ اس پر ملنے والا بونس مال طیب کہلائے گا ۔
لہذا اگر کوئی شخص اسی متعین رقم سے دعوت کرے تو اس دعوت کو قبول کرنے اور اس میں شریک ہونے سے احتراز کرنا بہتر ہے ۔
*الهندية:(4/ 285،ط:دارالفکر)*
فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر حتى لو شرط الربح كله لرب المال كان بضاعة ولو شرط كله للمضارب كان قرضا هكذا في الكافي. فلو قبض المضارب المال على هذا الشرط فربح أو وضع أو هلك المال بعد ما قبضه المضارب قبل أن يعمل به كان الربح للمضارب والوضيعة والهالك عليها كذا في المحيط.
(وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول وذلك بألفاظ تدل عليها من لفظ المضاربة والمقارضة والمعاملة وما يؤدي معاني هذه الألفاظ بأن يقول رب المال خذ هذا المال مضاربة على أن ما رزق الله أو أطعم الله تعالى منه من ربح فهو بيننا على كذا من نصف أو ربع أو ثلث أو غير ذلك من الأجزاء المعلومة وكذا إذا قال مقارضة أو معاملة ويقول المضارب أخذت أو رضيت أو قبلت أو نحو ذلك يتم الركن بينهما هكذا في البدائع.
ولو قال خذ هذا الألف فاعمل بالنصف أو بالثلث أو بالعشر أو قال خذ هذا الألف وابتع به متاعا فما كان من فضل فلك النصف ولم يزد على هذا شيئا أو قال خذ هذا المال على النصف أو بالنصف ولم يزد على هذا جازت استحسانا ولو قال اعمل به على أن ما رزق الله تعالى أو ما كان من فضل فهو بيننا جازت المضاربة قياسا واستحسانا هكذا في المحيط.
*مختصر القدوري:(ص113،ط:دار الكتب العلمية)*
ومن شرطها: أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما منه دراهم مسماة ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا بد لرب المال فيه.