مسجد میں بآواز بلند سلام کرنا

فتوی نمبر :
159
/ /

مسجد میں بآواز بلند سلام کرنا

سوال : بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ مسجد میں آتے ہیں تو بلند آواز سے سلام کرتے ہیں جب کہ بعض حضرات نماز میں اور بعض تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں تو کیا ان کا یہ طریقہ درست ہے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد میں جب لوگ نماز ، تلاوت اور دیگر ذکر و اذکار میں مشغول ہوں تو انہیں بلند آواز سے سلام کرنا مکروہ ہے ،البتہ اگر کوئی فارغ بیٹھا ہو تو قریب جا کر آہستہ سےسلام کرسکتے ہیں ۔

حوالہ جات

الشامية :(1/ 618، ط :دارالفكر )
وحاصلها: أنه يأثم بالسلام ‌على ‌المشغولين بالخطبة أو الصلاة أو قراءة القرآن أو مذاكرة العلم أو الآذان أو الإقامة .

الفتاوى الهندية : (5/ 325، ط:دارالفكر )
السلام ‌تحية ‌الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
193
فتوی نمبر 159کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155