نکاح

سوتیلی والدہ کی بہن سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1823
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سوتیلی والدہ کی بہن سے نکاح کا حکم

اگر کسی شخص کی بیوی فوت ہو جائے تو وہ اپنی سوتیلی ماں کی بہن (یعنی اپنے باپ کی بیوی کی بہن) سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی احکام کے مطابق اپنی سوتیلی والدہ (باپ کی بیوی جو حقیقی ماں نہیں ہوتی) کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کے درمیان رضاعت، مصاہرت یا کوئی اور وجہِ حرمت موجود نہ ہو۔

حوالہ جات

*الشامية:(31/3،ط: دارالفكر)*
قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ.

*البحر الرائق:(101/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ولا تحرم بنت زوج الام ولا امه ولا ام زوجة الاب ولا بنتها ولا ام زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الرابط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1823کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --