نکاح

دوسرے نکاح میں اپنے آپ کو غیر شادی شدہ لکھوانے سے نکا ح کا حکم

فتوی نمبر :
1891
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دوسرے نکاح میں اپنے آپ کو غیر شادی شدہ لکھوانے سے نکا ح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک لڑکے نے دوسرا نکاح کیا اور دوسرے نکاح کے وقت اس نے نکاح نامے میں اپنے آپ کو غیر شادی شدہ لکھوایا ، اس حوالے سے پوچھنا یہ ہے کہ اس جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کا نکاح ثانی منعقد ہوا یا نہیں؟ اور اس طرح کہنے سے اس کے نکاح اول پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر لڑکے نے دوسرے نکاح کے وقت نکاح نامہ میں اپنے آپ کو غیر شادی شدہ لکھوایا ہے تو یہ جھوٹ اوردھوکہ ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے، البتہ اس طرح کرنےسے نہ پہلے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ دوسرے نکاح پر ،پہلا نکاح بھی بدستور باقی رہے گا اور دوسرا نکاح بھی منعقد ہو جائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/14-22)

ومن ‌شرائط ‌الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.... (و) شرط (‌حضور) ‌شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).

الدر المختار مع رد المحتار 3/ 283):
سئل ‌ألك ‌امرأة؟ فقال لا تطلق اتفاقا، وإن نوى لأن اليمين والسؤال قرينتا إرادة النفي فيهما.
(قوله لا تطلق اتفاقا وإن نوى) ومثله قوله لم أتزوجك أو لم يكن بيننا نكاح، أو لا حاجة لي فيك بدائع لكن في المحيط ذكر الوقوع في قوله عند سؤاله. قال: ولو قال: لا نكاح بيننا يقع الطلاق والأصل أن ‌نفي ‌النكاح ‌أصلا لا يكون طلاقا بل يكون جحودا ونفي النكاح في الحال يكون طلاقا إذا نوى وما عداه فالصحيح أنه على هذا الخلاف اهـ بحر

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1891کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --