خواتین کے مخصوص مسائل

دوران حمل آنے والے خون کا حکم

فتوی نمبر :
1968
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / خواتین کے مخصوص مسائل

دوران حمل آنے والے خون کا حکم

السلام علیکم
اگر عورت کے حمل کو ڈیڑھ مہینہ ہو اور داغ لگ رہےہوں۔ مسلسل دو دن ہوگئے تو نماز کا کیا حکم ہے؟اور اگر حمل گرجائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١)واضح رہے کہ دورانِ حمل آنے والا خون حیض شمار نہیں ہوتا بلکہ استحاضہ کہلاتا ہے،لہٰذا یہ خون نماز کی ادائیگی، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات سے مانع نہیں، البتہ ایسی عورت کے لیے ضروری ہے کہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے۔
٢)جس عورت کا حمل ضائع ہوجائے تو اس میں تفصیل یہ ہے، کہ اگر ساقط ہونے والے بچے کے اعضا میں سے کسی عضو کی بناوٹ (جیسے ہاتھ، پاؤں، انگلی یا ناخن وغیرہ) ظاہر ہوچکی ہو تو عورت نفاس والی شمارہوگی اور اس کے بعد آنے والا خون نفاس کہلائے گا۔
اگر بچے کے کسی بھی عضو کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو ایسی صورت میں عورت نفاس والی شمار نہیں ہوگی اور حمل کے ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس نہیں کہلائے گا۔
اس صورت میں حکم یہ ہوگا کہ اگر کم از کم تین دن تک خون جاری رہے اور اس سے پہلے ایک کامل طُہر گزر چکا ہو، (یعنی کم از کم پندرہ دن پاکی کی حالت رہی ہو)تو اس خون کو حیض شمار کیا جائے گا،لیکن اگر حمل ضائع ہونے کے بعد خون تین دن سے کم آئے، یا اس سے پہلے کم از کم پندرہ دن کی پاکی پوری نہ ہوئی ہو، تو یہ خون حیض نہیں کہلائے گا بلکہ استحاضہ كا ہوگا۔

حوالہ جات

*صحیح البخاری:(68/1رقم الحدیث:306،ط: دار طوق النجاۃ)*
حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: «قالت فاطمة بنت أبي حبيش لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله إني لا أطهر أفأدع الصلاة. فقال رسول الله ﷺ: إنما ذلك عرق وليس بالحيضة، فإذا أقبلت الحيضة، فاتركي الصلاة، فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي».

*بدائع الصنائع: (42/1، ط: دار الکتب العلمیة)*
ودم الحامل ليس بحيض، وإن كان ممتدا عندنا وقال الشافعي: هو حيض في حق ترك الصوم، والصلاة، وحرمة القربان لا في حق أقراء العدة...(ولنا) قول عائشة الحامل لا تحيض، ومثل هذا لا يعرف بالرأي فالظاهر أنها قالته سماعا من رسول الله - ﷺ - ولأن الحيض اسم للدم الخارج من الرحم، ودم الحامل لا يخرج من الرحم لأن الله تعالى أجرى العادة أن المرأة إذا حبلت ينسد فم الرحم، فلا يخرج منه شيء فلا يكون حيضا.

*الدر المختار:(43/1،ط: دارالفکر)*
والناقص) عن أقله (والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما.
(وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب و(حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة

*ردالمحتار:(285/1،ط: دار الفکر)*
(قوله والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1968کی تصدیق کریں