مضاربت کی ایک ناجائز صورت

فتوی نمبر :
2020
معاملات / مالی معاوضات /

مضاربت کی ایک ناجائز صورت

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آدمی نے دوسرے کاروباری آدمی کو کچھ رقم دی کہ اسے کاروبار میں لگائیں ، کاروبار کرنے والے نے کہا کہ میں اس سے شہد خرید کر بیچوں گا ، اور فروخت ہونے کے بعد ہر کلو پر آپ کو پچاس روپے دوں گا ، کیا یہ عقد درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مضاربت میں نفع کا تعین فیصد کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ متعین مقدار سے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں متعین منافع دینا یہ مضاربت فاسدہ ہے جو کہ ناجائز ہے ، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ دونوں آپس میں یہ طے کرلیں کہ جو منافع آئیں وہ آپس میں فیصد کے حساب سے تقسیم ہوں گے ۔مثلا پانچ فیصد مضارب کا اور بقیہ رب المال کا ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (4/ 305، ط: دارالفكر)
(وشرطها) أي شركة العقد (‌كون ‌المعقود ‌عليه ‌قابلا للوكالة) فلا تصح في مباح كاحتطاب (وعدم ما يقطعها كشرط دراهم مسماة من الربح لأحدهما) لأنه قد لا يربح غير المسمى .

بدائع الصنائع: (6/ 85، ط: دارالكتب العلمية )
(ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المشروط ‌لكل ‌واحد ‌منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز، والمضاربة فاسدة؛ لأن المضاربة نوع من الشركة، وهي الشركة في الربح، وهذا شرط يوجب قطع الشركة في الربح؛ لجواز أن لا يربح المضارب إلا هذا القدر المذكور، فيكون ذلك لأحدهما دون الآخر، فلا تتحقق الشركة، فلا يكون التصرف مضاربة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
23
فتوی نمبر 2020کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --