آمدنی و مصارف

بچوں کے لیے لاٹری اسیکم کی خرید و فروخت کا حکم

فتوی نمبر :
2137
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بچوں کے لیے لاٹری اسیکم کی خرید و فروخت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! اس طرح کی لاٹری کا کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ، جس میں کسی ایک چیز کے کئی اسٹیکر بنے ہوئے ہوتے ہیں، جب کسی ایک چیز کے تمام اسٹیکر کسی ایک کے پاس جمع ہو جائیں تو وہ چیز اس خریدار کو بطور انعام دی جاتی ہے اور بچوں کا اسے خریدنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لاٹری حقیقت میں سود اور جوئے پر مبنی ہے، جوا اس طرح ہے کہ لاٹری میں لوگ پیسے لگا کر ٹکٹ خریدتے ہیں، پھر قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ ہوتا ہے کچھ لوگوں کا پیسہ ضائع جاتا ہے اور کچھ لوگوں کو زیادہ مل جاتا ہے۔
سود اس طرح ہے کہ اس میں رقم دے کر بغیر کسی محنت کے اس پر اضافی نفع لیا جاتا ہے۔
شریعت مطہرہ میں سود اور جوا دونوں حرام اور گناہِ کبیرہ ہیں، لہذا لاٹری خریدنا جائز نہیں ہے۔
یہی حکم ذکر کردہ لاٹری کی خریدوفروخت کا ہے۔بچوں کو ایسی چیزوں کی خرید وفروخت سے منع کرنا ضروری ہے ۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(المائدہ: 90:5)*
یٰأَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ"

*الدر المختار:(430/1،ط: دارالفكر)*
لغة: مطلق الزيادة، وشرعا: (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا قائما لا رد ضمانه، لانه يملك بالقبض.

*تبيين الحقائق:(85/4دار الكتاب الإسلامي)*
(هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال) هذا في الشرع وفي اللغة هو مطلق الزيادة قال الله تعالى ﴿وما آتيتم من ربا﴾ إلى قوله ﴿فلا يربو عند الله﴾ وسمي المكان المرتفع ربوة لزيادته على سائر الأماكن ارتفاعا والربا محرم بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.

*فتاوی محمودیہ:(440/16،ط: دارالافتاء جامعہ فاروقیہ)*

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 2137کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --