مفتی صاحب !
آج کل لوگ شب برأت میں لوگ ایک دوسرے کو میسج وغیرہ کے ذریعے معافی کے پیغامات بھیجتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
شبِ براءت کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی مانگنے کے پیغامات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، یہ پیغامات اس خیال کے تحت بھیجے جاتے ہیں کہ احادیثِ مبارکہ کے مطابق اس رات اللہ تعالیٰ بہت سے مسلمانوں کی مغفرت فرماتے ہیں، البتہ رشتہ توڑنے والے اور کسی مسلمان سے عداوت رکھنے والے اس مغفرت سے محروم رہتے ہیں، اسی بنا پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپس کی ناراضگیاں دور کر کے ایک دوسرے سے معافی مانگنی چاہیے، تاکہ شبِ براءت کی فضیلت حاصل ہو اور اس رات کی مغفرت سے محرومی نہ ہو۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن ضروری ہے کہ یہ معافی محض رسمی نہ ہو، آج کل عام طور پر جو معافی نامے بھیجے جاتے ہیں، وہ زیادہ تر ایک رسم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ بھیجنے والا بھی اسے حقیقی معافی کی نیت سے نہیں، بلکہ محض ایک روایت کی ادائیگی کے طور پر بھیجتا ہے اور جسے یہ پیغام موصول ہوتا ہے، وہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس کا مقصد دل سے معافی مانگنا نہیں، بلکہ صرف رسمی پیغام رسانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معافی ناموں سے عموماً کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے ایسے عمومی اور رسمی پیغامات بھیجنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ جن لوگوں کو واقعی ناراض کیا ہو، ان سے دل سے معافی مانگی جائے، ان کی ناراضگی دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے اور اگر کسی کا کوئی حق دبایا ہو تو اسے ادا کیا جائے۔ اور اگر کسی وجہ سے حق ادا کرنے کی قدرت نہ ہو تو صاحبِ حق کے سامنے عاجزی، ندامت اور خلوص کے ساتھ معافی طلب کی جائے۔ اس طرح معافی مانگنا بلاشبہ مفید، مؤثر اور باعثِ اجر ہے۔
مزید یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ میں معاف کرنے یا معافی مانگنے کے لیے کسی خاص دن یا رات کو متعین نہیں کیا گیا، بلکہ جب بھی کسی سے کوتاہی یا غلطی سرزد ہو، اسی وقت معافی مانگ لینا افضل اور مطلوب ہے۔
*الأذكار للنووي :(ص:346،ط: دار الفكر)*
اعلم أن كلَّ من ارتكب معصيةً لزمه المبادرةُ إلى التوبة منها، والتوبةُ من حقوق الله
تعالى يُشترط فيها ثلاثة أشياء: أن يُقلع عن المعصية في الحال، وأن يندمَ على فعلها، وأن يَعزِمَ ألاّ يعود إليها.
والتوبةُ من حقوق الآدميين يُشترط فيها هذه الثلاثة، ورابع: وهو ردّ الظلامة إلى صاحبها أو طلب عفوه عنها والإِبراء منها.
*فتح القريب المجيب على الترغيب والترهيب» (4/ 445)*
معنى التوبة الندم على ما فات وإصلاح ما هو آت، وللتوبة وصحتها شروط أحدها أن يقلع عن المعصية في الحال أي بالقلب، والثاني: أن يندم على ما فعل أي ما سلف من ذنوبه، والثالث: العزم على تركها والرجوع إلى الذنب وعبارة بعضهم أن لا يعود إليها أبدًا في الأزمنة المستقبلة، والرابع: أداء أول فريضة ضيعها فيما بينه وبين الله تعالى، والخامس: رد الظلامة إلى صاحبها أو طلب العفو عنها والإبراء منها إن كانت تتعلق بآدمي، السادس: إذابة كل لحم وشحم نبت من الحرام بإصلاح المطعم والمشرب والملبس، السابع: إذاقة البدن ألم الطاعة كما ذاق حلاوة المعصية، الثامن: تطهير القلب من الأدناس وهو الغل والغش والحسد والمكر وطول الأمل ونسيان الأجل انتهى، قاله الهروي وقد ذكر النووي بعض هذه الشروط.