فطرہ

گزشتہ سالوں کا صدقہ فطر کس اعتبار سے ادا کیا جائے گا

فتوی نمبر :
2224
عبادات / زکوۃ و صدقات / فطرہ

گزشتہ سالوں کا صدقہ فطر کس اعتبار سے ادا کیا جائے گا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب !
ایک مسئلے کی وضاحت پوچھنی ہے کہ اگر کسی بندے نے پچھلے چھ یا سات سال کا صدقہ فطر ادا نہ کیا ہو، اب اگر وہ ادا کرے گا تو پچھلے سالوں کی قیمت کے اعتبار سے ادا کرے گا یا موجودہ قیمت کے اعتبار سے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص گزشتہ سالوں کا صدقۂ فطر اب ادا کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے ادا کرے، گزشتہ سالوں کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(130/1،ط: دارالفکر)*
وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غين الاعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء. وفي السوائم يوم الاداء إجماعا، وهو الاصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الامصار إليه، فتح.

*البحر الرائق:(2/ 238، ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وإن أدى قيمتها فعنده تعتبر القيمة يوم الوجوب في الزيادة والنقصان، وعندهما في الفصلين يعتبر يوم الأداء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
5
فتوی نمبر 2224کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --