نکاح

بیوی کے بھاگ جانے کانکاح پر اثر

فتوی نمبر :
2226
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی کے بھاگ جانے کانکاح پر اثر

مفتی صاحب !
اگر بیوی کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے اور پانچ دن بعد واپس آئے اور کہے کہ غلطی ہوگئی ہے ، تو کیا وہ بیوی اپنے شوہر کے لیے جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شادی شدہ عورت کا کسی اور کے ساتھ بھاگ جانا انتہائی بر ااور حرام عمل ہے ، تاہم جب تک شوہر طلاق نہ دے ،یا عورت خلع نہ لے ،تب تک وہ شوہر کے نکاح میں ہے اس کے ساتھ ازدواجی تعلق رکھنا جائز ہے ۔

حوالہ جات

الشامية : (3/ 230، ط: دارالفكر)
(قوله وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر.

الهندية: (1/ 348، ط: دارالفكر)
(أما تفسيره) شرعا فهو ‌رفع ‌قيد ‌النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي .

بدائع الصنائع : (3/ 187، ط: دارالكتب العلمية )
وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
33
فتوی نمبر 2226کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --