مفتی صاحب !
اگر بیوی کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے اور پانچ دن بعد واپس آئے اور کہے کہ غلطی ہوگئی ہے ، تو کیا وہ بیوی اپنے شوہر کے لیے جائز ہے ؟
واضح رہے کہ شادی شدہ عورت کا کسی اور کے ساتھ بھاگ جانا انتہائی بر ااور حرام عمل ہے ، تاہم جب تک شوہر طلاق نہ دے ،یا عورت خلع نہ لے ،تب تک وہ شوہر کے نکاح میں ہے اس کے ساتھ ازدواجی تعلق رکھنا جائز ہے ۔
الشامية : (3/ 230، ط: دارالفكر)
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر.
الهندية: (1/ 348، ط: دارالفكر)
(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي .
بدائع الصنائع : (3/ 187، ط: دارالكتب العلمية )
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.